شاہو مہاراج نے سماجی مساوات کا عملی نمونہ پیش کیا‘‘ – سندیپ مالوی تھانے میونسپل کارپوریشن کے پریس روم میں شاہو مہاراج کی جینت ی عقیدت کے ساتھ منائی گئی

شاہو مہاراج نے سماجی مساوات کا عملی نمونہ پیش کیا‘‘ – سندیپ مالوی
تھانے میونسپل کارپوریشن کے پریس روم میں شاہو مہاراج کی جینتی عقیدت کے ساتھ منائی گئی

تھانے، 26 جون: (آفتاب شیخ)
ریاست مہاراشٹر کے معروف سماجی اور ریزرویشن کے بانی راجشری شاہو مہاراج کی جینتی کے موقع پر جمعرات کو تھانے میونسپل کارپوریشن کے پریس روم میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مہاراج کے پورٹریٹ کو عقیدت کے ساتھ نصب کیا گیا اور ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی ممبئی ریجن جھوپڑپٹی بازآبادکاری اتھارٹی کے سی ای او اور تھانے میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنر سندیپ مالوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’شاہو مہاراج نے سماجی مساوات کا ایسا معیار قائم کیا جسے آج بھی رہنمائی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ریزرویشن کی ضرورت کو سب سے پہلے شاہو مہاراج نے سمجھا اور 1920 میں اپنے کولہاپور ریاست میں پہلا ریزرویشن لاگو کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شاہو مہاراج نے دلت برادری سے تعلق رکھنے والے گنگارام کامبلے کے لیے ٹاؤن ہال کے قریب ایک ہوٹل کرایے پر لیا، لیکن جب دیکھا کہ ابتدائی دنوں میں لوگ وہاں نہیں جا رہے تو وہ خود ہوٹل میں چائے پینے پہنچے۔ پھر درباری افراد بھی وہاں آنے لگے۔ اس عمل سے شاہو مہاراج نے عملی طور پر برابری کا پیغام دیا۔

سدھّی ونایک مندر ٹرسٹ کے ٹرسٹی راہل لوندھے نے کہا کہ "ہر صحافی اور شہری کو چاہئے کہ وہ اپنے عظیم سنتوں اور سماجی رہنما کے خیالات کو محفوظ رکھے اور انہیں عام کرے۔" انہوں نے کہا کہ شاہو مہاراج نے ایسے دور میں سماجی انقلاب کی شروعات کی جب دلتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ ان کے گلے میں مٹی کا گھڑا، پیٹھ پر جھاڑو، اور منہ سے تھوکنے کے لیے الگ انتظام ہوتا تھا۔ لیکن شاہو مہاراج، مہاتما پھولے اور بعد میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے اس غیر انسانی نظام کو چیلنج کیا اور ختم کرنے کی مہم چلائی۔

پروگرام کا انعقاد سینئر صحافی ویویک کرشن کامبلے کی قیادت میں کیا گیا۔ اس موقع پر متعدد صحافی، سماجی کارکن اور معزز شہری موجود تھے جنہوں نے شاہو مہاراج کی تعلیمات کو آج کے دور میں بھی برمحل قرار دیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading