شادی شدہ ہندو شخص سے مسلم لڑکی کے ناجائز تعلقات،رخسانہ کو زندہ جلا کر ناجائز بچہ کو روڈ پر تنہاچھوڑ دیا

بنگلورو:کرناٹک پولیس نے بنگلورو کے رہنے والے پردیپ کو مسلم خاتون رخسانہ کے قتل کے الزام میں گرفتارکرلیا۔ اسے تعزیرات ہند کی دفعہ 302 (قتل) اور 201 (ثبوت مٹانے) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 31 مارچ کو پولیس کو 21 سالہ رخسانہ کی جلی ہوئی لاش ملی تھی۔پولیس کے مطابق پردیپ نے رخسانہ کو شادی کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرلئے تھے۔ جوڑے کی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب رخسانہ میسور میں کام کر رہی تھی۔

دونوں کے درمیان تعلقات کے نتیجہ میں ان کے ہاں بچہ کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔ تاہم شادی شدہ پردیپ نے رخسانہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

رخسانہ اکثر بنگلورو میں پردیپ کے گھر جایا کرتی تھی اور اس سے شادی کیلئے اصرار کرتی تھی۔ پردیپ نے پولیس کو بتایا کہ وہ رخسانہ کے بار بار کے شادی کے مطالبہ سے تنگ آچکا تھا، اس لئے اس نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔

پولیس نے انکشاف کیا کہ وہ رخسانہ اور اُس کے ناجائز بچے کو اپنے آبائی گاؤں کدور لے گیا۔ بنگلورو واپسی پر پردیپ نے رخسانہ کا قتل کیا اور ٹمکورو کے قریب اس کی لاش کو جلا دیا۔

اس کے بعد وہ بچے کو بنگلورو لے آیا اور اسے ایک ٹھیلہ بنڈی پر چھوڑدیا۔ جب بنڈی کے مالک نے بچہ کو دیکھا تو پولیس کو اطلاع دی اور بچے کو پولیس کے حوالے کردیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading