پولس نے تصادم کی وجہ سے اب تک 7 ہلاکتوں کی تصدیق کی
دہلی پولس نے شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ روز ہوئے دو گروپوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے 7 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ دہلی پولس کا کہنا ہے کہ ایک پولس اہلکار تشدد کے درمیان ہلاک ہوا جب کہ 6 شہری بھی اپنی زندگی کی جنگ ہار گئے۔
Delhi Police on violence in #NortheastDelhi yesterday: A total of 7 deaths were reported – 1 police personnel and 6 civilians lost their lives. pic.twitter.com/JhYHmKbyxk
— ANI (@ANI) February 25, 2020
برہمپوری میں پتھراؤ، آر اے ایف جوانوں کے فلیگ مارچ کے دوران 2 خالی کارتوس برآمد
دہلی کے برہمپوری علاقے میں دو گروپوں کے درمیان پتھراؤ کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ پتھراؤ کے بعد بڑی تعداد میں پولس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے اور آر اے ایف کے جوانوں نے علاقے میں فلیگ مارچ بھی کیا۔ اس درمیان آر اے ایف کے جوانوں کو دو خالی کارتوس ملے ہیں۔
Delhi: Stone pelting between two groups in Brahampuri area, today morning. #NortheastDelhi pic.twitter.com/XR1lRZ0Ryt
— ANI (@ANI) February 25, 2020
دہلی: فائر بریگیڈ محکمہ کو پیر سے آج صبح 3 بجے تک آگ زنی کے 45 فون آئے
شمال مشرقی دہلی کے فائر بریگیڈ محکمہ کے ڈائریکٹر کے مطابق پیر کے روز سے آج صبح 3 بجے تک آگ زنی سے جڑے 45 فون کال آ چکے ہیں۔ اب تک 3 فائر بریگیڈ اہلکار زخمی بھی ہو چکے ہیں اور ایک فائر بریگیڈ گاڑی کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔
Fire Director, #NortheastDelhi: We received total 45 fire calls since yesterday till 3 am today; 3 firemen got injured, 1 fire tender was set ablaze. https://t.co/N2yQ2eypt9
— ANI (@ANI) February 25, 2020
شمال مشرقی دہلی میں حالات ہنوز کشیدہ، 5 موٹر سائیکل نذر آتش
شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف گزشتہ دو مہینے سے زیادہ عرصہ سے دہلی کے مختلف علاقوں میں پرامن دھرنا و مظاہرہ جاری ہے۔ لیکن شمال مشرقی دہلی میں اتوار کے روز سے ہی حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ سی اے اے کی حمایت میں کچھ لوگوں نے آواز اٹھاتے ہوئے فضا کو زہر آلود کر دیا ہے۔ مبینہ طور پر انھوں نے پرامن مظاہرہ کرنے والے لوگوں پر حملہ کیا جس سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ آج بھی شمال مشرقی دہلی کے حالات کشیدہ ہیں اور اطلاعات کے مطابق صبح سویرے 5 موٹر سائیکل کو شرپسندوں نے نذر آتش کر دیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو