سیّد قطبؒ اور شیخ عزامؒ پر اویسی کا بیان

اویسی صاحب نے خود پر حملے کےبعد پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ جن ہندو لڑکوں نے اُن پر حملہ کیا تھا انہوں نے انتہاپسندی کہاں سے سیکھی؟ کیا انہوں نے یہ انتہاءپسندی ” سید قطب ” ” عبداللہ عزام ” یا ” ایمن الظواہری ” کی کتابوں سے سیکھی؟

یہ بیان بہت خطرناک ہے، میں نے اس طرف آج ہی توجہ دی، ایمن الظواہری کو الگ کردیتے ہیں ان سے ہمیں سروکار نہیں تو بھی کیا اویسی صاحب پارلیمنٹ میں اخوانی رہنما اور عظیم اسلامی مفکر سید قطب کے قرآنی لٹریچر کو انتہاپسندی کا لٹریچر ثابت کررہےتھے؟ یا وہ فلسطینی رہنما عبداللہ عزام کو انتہاپسندی کی جڑ قرار دے رہےتھے؟

سوال یہ ہے کہ ہندوﺅں کی انتہاپسندی پر بات کرتے ہوئے سید قطب، عبداللہ عزام یا ایمن الظواہری کا تذکرہ ہی کیوں؟ وہ بھی انڈین پارلیمنٹ میں انتہاپسندی اور عسکریت کی طرف لے جانے والے لٹریچر کی مثال دینے کے لیے؟

میں جس سچائی کو محسوس کرلوں اسے چھپا نہیں سکتا، میں نے بھارت کے مکار اور نام نہاد سیکولر سیاستدانوں کے الزامات کے مقابلے میں اویسی صاحب کی حمایت میں ابھی اترپردیش الیکشن کے تناظر میں کئی مضامین لکھے ہیں لیکن کل جس طرح اویسی صاحب نے پاکستان کو برا بھلا کہا اور یہ سید قطب و شیخ عزام کےمتعلق ان کا بیان سننے کےبعد مجھے ان کی سیاست میں نظریاتی گہرائی کی بڑی کمی محسوس ہورہی ہے،

خالی خولی نیشنلسٹ سیاستدان بن کر جمہوریت کے عالمی استعماروں والا موقف بیان کرنا، جمہوری سیاست کا مسلم چہرہ بن کر عالمی طاغوتی طاقتوں کا اسلامی اقتدارکے نظریات کےخلاف والا نقطۂ نظر آگے بڑھانا یعنی کہ نئی نسل کو عالمی ایمانی اخوت اور اسلامی بنیادوں سے دور کرناہے، اس کا مطلب

ہےکہ اویسی صاحب ایک مسلم سیاستدان تو ہیں مگر سیاست میں اور نظریات میں وہ بھی موجودہ سیکولر مغربی سوراج کے مطابق ہیں جس کا مطلب یہ ہےکہ وہ بھارتی مسلمانوں کو کانسٹی ٹیوشن کا تو فرمانبردار بنانا چاہتےہیں لیکن عالمی ایمانی اخوت اور عالمِ اسلام کی عظمت و خلافت کی برکات سے دور راشٹروادی مسلمان ہی بنانا چاہتےہیں ۔

✍: سمیع اللہ خان

ksamikhann@gmail.com

2 thoughts on “سیّد قطبؒ اور شیخ عزامؒ پر اویسی کا بیان”

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading