ممبئی 11/ فروری (یو این آئی)برطرف انکاونٹر اسپیشلسٹ پولیس افسر سچن وازے اور دیگر پولس کانسٹبلوں کے خلاف ممبئ کے گھاٹ کوپر میں ہوئے بم دھماکوں کے ملزم خواجہ یونس کی پولیس حراست میں ہوئی موت کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی سٹی سول سیشن عدالت نے وکیل استغاثہ کی تقرری میں ہونے والی تاخیر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ گذشتہ 12سالوں سے مقدمہ کی سماعت متاثر ہورہی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے میں جلد ازجلد مقدمے کی سماعت کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ساتھ ہی ساتھ اس عدالت نے بھی گذشتہ سال جولائی اگست میں بھی ہدایت دی تھی کہ ریاستی حکومت خصوصی وکیل استغاثہ کی تقرری کرے لیکن ابھی تک اس پر عمل در آمد نہیں کیا گیا۔
سیشن جج ڈاکٹر یو جے مورے نے کہا کہ لگاتار یاد دہانی اورنوٹس جاری کرنے کے باوجود سی آئی ڈی نے ابھی تک ٹرائل کے جلد از جلد مکمل کرنے کے لیئے کوئی اقدامات نہیں کیئے ہیں، سی آئی ڈی نے اس مقدمہ کو لیکر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ گذشتہ سال سی آئی ڈی نے وکیل استغاثہ کو مقدمہ سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد انہیں فوراً کسی دوسرے سرکاری وکیل کی تقرری کرنا تھی لیکن ایک طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود ابھی تک سرکاری وکیل کی تقرری نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے مقدمہ التواء کا شکار ہے۔
اس ضمن میں خواجہ یونس کی والدہ آسیہ بیگم کی جانب سے سچن وازے اور دیگر تین پولس والوں کی ملازمت پر بحالی کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں دو پٹیشن داخل کرنے والی جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ خواجہ یونس کے قاتلوں کو سزا دلانے کے لیئے حکومت مہاراشٹر کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ سیشن جج کے تبصرے سے لگایا جاسکتا ہے۔یہ پہلی بارنہیں ہوا ہے کہ سیشن جج نے ایسا تبصرہ کیاہے اس کے باوجود سی بی آئی عدالت کے تبصروں کو نظر انداز کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق اسسٹنٹ پولس انسپکٹر سچن وازے، پولس کانسٹبل راجندر تیوار، سنیل دیسائی کی ملازمت پر بحالی کو ممبئی ہائی کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی کے توسط سے چیلنج کیا گیا ہے، مقدمہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے نیز مقدمہ پر جلد سماعت کے لیئے ہائی کورٹ کے رجسٹرار سے رجوع کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ23 دسمبر 2002 کو خواجہ یونس کو 2، دسمبر 2002 کو گھاٹکوپر میں ہونے والے بم دھماکہ کے الزام میں گرفتارکیا تھا جس کے بعد سچن وازے نے دعوی کیا تھا کہ خواجہ یونس پولس تحویل سے اس وقت فرار ہوگیا جب اسے تفتیش کے لیئے اورنگ آبا دلے جایا جارہا تھا حالانکہ سی آئی ڈٖی نے سچن وازے کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے معاملے کی تفتیش کے بعد سچن وازے سمیت دیگر تین پولس والوں کے خلاف خواجہ یونس کو قتل کرنے کا مقدمہ قائم کیا تھا جو فاسٹ ٹریک عدالت میں زیر سماعت ہے۔