1953سے منظر عام پر آرہے جماعت اسلامی ہند کے ترجمان اخبارکا چراغ گل کئے جانے کی اطلاع عام ہوتے ہی سوشل میڈیا پرہلچل ،ملت کے سنجیدہ حلقو ں نے اٹھائے’سنجیدہ سوالات‘
نئی دہلی (ہندوستان ایکسپریس نیوز بیورو )
ایسے وقت میں جب کہ ملت اسلامیہ ہند پریشانیوں سے جوجھ رہی ہے اور پریشان حال مسلمانوں کی نگاہیں اس کی نمائندہ تنظیموں پر جمی ہوئی ہیں کہ وہ ملت کی رہنمائی اور قیادت کا عملی نمونہ پیش کریں گے، جماعت اسلامی ہند نے اپنے ترجمان اخبار سہ روزہ دعوت کی اشاعت کے سلسلہ کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے،جو سنجیدہ قارئین کیلئے تشویش پیدا کرنے کی وجہ بن گیا ہے ۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی ہند نے یہ فیصلہ لے لیا ہے کہ مالی خسارے کو اب مزید نہ برداشت کرتے ہوئے اخبار کے سلسلے کو بند کر دیا جائے گا۔اس سلسلے کا ایک مختصراعلانیہ جماعت کے اوکھلا واقع جماعت اسلامی ہند کے صدر دفترمیں چسپاں بھی کردیا گیاہے۔ اسی درمیان یہ خبر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے کہ جماعت سے منسلک کچھ سر کردہ افراد جن کا تعلق جنوب سے ہے، اخبار کو حیدرآباد سے شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ اخبار باوثوق ذرائع کی اطلاع کے مطابق ہفت روزہ کی شکل میں از سر نو شائع ہوسکتا ہے، حالانکہ اس کی تصدیق فی الحال نہیں ہو سکی ہے۔

بتا دیں کہ جماعت اسلامی ہند کا یہ اخبار 1953 میں ایک ہفتہ وار اخبار کی شکل میں شروع ہوا تھا،جسے 1960میں روزنامہ کی شکل میں بدل دیا گیا تھا۔بعدازاں اسے سہ روزہ اخبار کے طورپر منظرعام پر لانے کا فیصلہ کیا گیا۔سہ روزہ’ دعوت ‘ کا اپنا دعویٰ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں اس کے قارئین کی تعدادایک لاکھ25ہزار سے زائد ہے۔اس سہ روزہ کوہندوستانی مسلمانوں کے درمیان منفرد شناخت حاصل رہی ہے۔ اسے نہ صرف عوام الناس کے درمیان مقبولیت رہی ہے بلکہ جماعت سے سروکار نہ رکھنے والے دانشوربھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے اورپڑھتے رہے ہیں۔اس اخبارکے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی پستی اورسماجی ترقی جیسے اہم ایشوزپر سنجیدہ مباحث کے ساتھ ہی ساتھ مسلم مفادات کی ترجمانی کی کوشش ہوتی رہی ہے، جس کی وجہ سے عوام اور خواص دونوں کے درمیان سہ روزہ دعوت کی اچھی اور منفرد شناخت رہی ہے۔
جیسے ہی یہ اطلاع منظر عام پر آئی کہ سہ روزہ دعوت کا چراغ گل ہونے کو ہے، سوشل میڈیا پرمختلف قسم کے تبصرے گردش کرنے لگے۔بہت سے سنجیدہ قاری جماعت اسلامی ہند کے اس فیصلے کو ہدف ملامت بنانے لگ گئے اور بعض کی جانب سے تلخ و تند سوالات کھڑے کرنے اور جماعت اسلامی ہند کی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بھی کوشش کی جانے لگی ۔
کہا جا رہا ہے کہ اب اس اخبار کے بند ہونے کے ساتھ ہی آزادی ہند کے بعدسے لگاتار ہندوستانی مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والا ایک باب بند ہوجائے گا۔سوشل میڈیاپراوربعض دوسرے پلیٹ فارم پریہ نکتہ بحث کا موضوع ہے کہ” ایک ایسا ادارہ جو قوم و ملت کے سرمایے سے چل رہا ہو وہ اگر اپنے ترجمان اخبار کو بند کرنے پر آمادہ ہو جائے تویہ سوال بھی کھڑا کیا جا سکتا ہے کہ کیوں نہ جماعت اسلامی ہند اپنی جملہ سرگرمیاں اس وجہ سے بند کردے کہ وہ بذات خود گھاٹے کا سودا ہے“۔ جماعت اسلامی ہند کے ہیڈ کوارٹر میں چسپاں’ مختصر سا اعلامیہ‘ جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سہ روزہ دعوت کو بند کرنے کا فیصلہ مستقل گھاٹے کی وجہ سے کیا گیا ہے،بجائے خود سوالوں کی زد میں ہے اور یہ سوال کھڑاکیا جارہا ہے کہ جب کوئی جماعت اپنا’ آرگن‘نہ سنبھال سکے تواس جماعت اوراس کی قیادت کو اہل کیسے سمجھاجائے۔
اسی درمیان یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے پرانے ملازمین کو فارغ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اوراِدھر اُدھرسے جو اطلاعات مل رہی ہیں،اس کے مطابق اب جو اخبار حیدرآباد سے ر ہفت روزہ کی شکل میں نکلے گا اس میں پرانے ملازمین کیلئے کہیں کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسی لئے دہلی والے اخبار کو جماعت اسلامی ہند نے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متعدد لوگوں نے جماعت کے اس فیصلے کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث

