اسلام آباد: (ایجنسیز)سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے عمران خان کو ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں عمران خان کی گرفتاری قانون کے مطابق نہیں۔یاد رہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قرار دینے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کر رہا تھا۔
پولیس نے بدھ کی رات تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔دو روز کے پرتشدد مظاہروں کے بعد جمعرات کو ملک کے بڑے شہروں میں حالات بہتر ہو رہے ہیں تاہم ملک میں انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے۔احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کا آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے فوراً بعد ایک منظم طریقے سے فوج کی املاک اور تنصیبات پر حملے کرائے گئے اور فوج مخالف نعرے بازی کروائی گئی۔امن و امان کی مخدوش صورتحال کے پیشِ نظر پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بھی فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں تحریکِ انصاف کے پرتشدد احتجاج میں اب تک کم از کم دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں