سنبھل جامع مسجد اور اجمیر درگاہ معاملہ ,شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے:مسلم ایڈوکیٹ فورم ناندیڑ کامطالبہ

ناندیڑ:2/دسمبر. ملک میں پہلے بابری مسجد، گیان واپی مسجد کے زریعے م±لک میں نفرت کا ماحول پیدا کیا گیا اور اب اتر پردیش کے سنبھل میں واقع جامع مسجد کے غیر قانونی سروے، اس کے نتیجے میں ہونے والے پر تشدد واقعات ، اور ان واقعات میں مسلم نوجوانوں کی شہادت، اجمیر درگاہ کو مندر قرار دینے کی عدالت میں پٹیشن کے خلاف آج ناندیڑ میں م±سلم وکلائ کی تنظیم م±سلم ایڈوکیٹ فورم ناندیڑ کی جانب سے ضلع کلکٹر کے معرفت صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک مطالباتی محضر روانہ کیا گیا۔

مسلم ایڈوکیٹ فورم کے سرپرست سینیئر قانون داں ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدّیقی کی قیادت میں اس وفد میں فورم کے صدر ایڈوکیٹ محمد ایوب الدین جاگیردار، نائب صدر ایڈوکیٹ محمد شاہد، سیکریٹری ایڈوکیٹ سید ساجد، جوائنٹ سیکریٹری ایڈوکیٹ واحد احمد، خازن ایڈوکیٹ جاوید پٹھان، ایڈوکیٹ محمد منیرالدین، خاتون نمائندہ ایڈوکیٹ لبنیٰ فرحین شامل تھے۔ اِس موقع پر ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی نے کہا کہ پچھلے چند سالوں سے اس ملک کے پ±ر امن ماحول کو شرپسندوں کی جانب سے بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پہلے بابری مسجد کو شہید کیا گیا پھر گیان واپِی کا تنازعہ پیدا کر م±لک میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے گئے۔ اور اب سنبھل کی جامع مسجد کے بعد خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحم? اللہ علیہ کی درگاہ کو بھی ہندو سنگھٹناو¿ں کی جانب سے عدالت میں پٹیشن داخل کی گئی ہے۔ یہ سراسر 1991 کے قانون کی خِلاف ورزی ہے۔ آج م±لک میں روزآنہ مسلمانوں کے خِلاف ظلم ہو رہے ہیں۔ اور اس م±لک کے پ±ر امن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لیئے ہم نے آج م±سلم ایڈوکیٹ فورم کے ذریعے ضلع کلکٹر کے معرفت صدر جمہوریہ ہند کو محضر روانہ کر ایسے لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر م±سلم ایڈوکیٹ فورم کے صدر ایڈوکیٹ محمد ایوب الدین جاگیردار نے کہا کہ ہمارے آبا و اجداد نے ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں، آج ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔

ہمارے آبا و اجداد نے آزادی کے لیے اپنی جانیں دیں۔ سنبھل کے واقعات دراصل اقلیتوں کے خلاف منظم سازش قرار ہے۔ سنبھل میں پولیس فائرنگ کا واقعہ حکومت کی ناکامی اور اقلیتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی ایک اور مثال ہے۔ اسی طرح اجمیر شریف جیسے مقدس مقام کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی دانستہ کوشش ہے۔ 1991 کے قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ ایسے واقعات سے م±لک کے حالات بگڑ رہے ہیں اور اس کے لیئے مرکز کی بی جے پی حکومت زمہ دار ہے۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس چندرچوڑ کے سنگل بینچ نے گیان واپی مسجد سروے کا جو فیصلہ دیا تھا ا±سے لارجر بینچ کے سامنے پیش کر ا±س فیصلے کو ردِّ کرنے کا حکم دیں،

اس وفد میں ایڈوکیٹ ارشاد احمد، ایڈوکیٹ شیخ عامر، ایڈوکیٹ غلام جاوید، ایڈوکیٹ ارشد نائیک، ایڈوکیٹ شیخ حمید حیدر، ایڈوکیٹ نغمہئ زم زم، ایڈوکیٹ سعدیہ چاوش، ایڈوکیٹ سید زکی الدین، ایڈوکیٹ نوید پٹھان، ایڈوکیٹ یوسف الدین فاروقی، ایڈوکیٹ واصف الدین فاروقی، ایڈوکیٹ مشیر خان، ایڈوکیٹ عبداللہ خان، ایڈوکیٹ شمس الدین ہاشمی، ایڈوکیٹ فیروز خان، ایڈوکیٹ ضمیر چاوش، ایڈوکیٹ محمد راشد، ایڈوکیٹ عادل خان، ایڈوکیٹ ادمنکر و دیگر موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading