سماج رائنا سمیت پانچ کامیڈینز کو سپریم کورٹ کی پھٹکار، جج کا حکم- یوٹیوب چینل پر عوامی معافی مانگو

نئی دہلی:اسٹینڈ اَپ کامیڈین سماج رائنا، وِپُل گوئل اور دیگر کو سپریم کورٹ سے سخت پھٹکار ملی ہے۔ عدالت نے انہیں معذور افراد (PwDs) اور نایاب بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا مذاق اڑانے والے غیر حساس لطیفوں کے لیے بلا شرط عوامی معافی مانگنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ تمام کامیڈینز اپنے یوٹیوب چینل پر عوامی طور پر معافی نامہ جاری کریں۔ ساتھ ہی ججوں نے طنزیہ لہجے میں کہا، ’’یہ بھی بتائیں کہ آپ پر کتنا جرمانہ لگایا جائے!‘‘

یہ معاملہ کیور ایس ایم اے (Cure SMA) کی طرف سے دائر ایک عرضی پر سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کامیڈینز نے اپنے شوز میں معذور افراد اور نایاب بیماریوں کا مذاق اُڑایا، جس سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی۔ اس معاملے کو "انڈیاز گاٹ لیٹنٹ” تنازع سے بھی جوڑ دیا گیا، جس میں یوٹیوبر رنویر الہٰ آبادیہ پر الزام لگا تھا۔

کن کامیڈینز کو سپریم کورٹ کی پھٹکار؟

سماج رائنا

وِپُل گوئل

بلراج پرمیت سنگھ گھئی

سونالی ٹھکر

نِشانت جگدیش تنور

عدالت کا سخت رویہ

سماعت کے دوران تمام کامیڈینز بشمول سماج رائنا ذاتی طور پر عدالت میں موجود تھے۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے عدالت کو بتایا کہ سب نے معافی مانگ لی ہے۔ جسٹس کانت نے کہا:
"مذاق زندگی کا حصہ ہے، ہم اپنے اوپر مذاق برداشت کر سکتے ہیں، لیکن جب آپ دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ حساسیت کی خلاف ورزی ہے۔”

سپریم کورٹ کی ہدایات

بلا شرط عوامی معافی: پانچوں کامیڈینز کو یوٹیوب پر معافی نامہ جاری کرنے کا حکم۔

حلف نامہ جمع کرائیں: یہ بتانا ہوگا کہ انہوں نے معذوری اور نایاب بیماریوں کے شعبے میں کیا کام کیا ہے۔

جرمانے کی تجویز: عدالت نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ ان پر کتنا جرمانہ لگایا جانا چاہیے۔

اظہارِ رائے کی آزادی پر بحث

سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ممکن نہیں۔ جس پر جسٹس کانت نے حکومت سے پوچھا کہ کیا سوشل میڈیا مواد کے لیے کوئی پالیسی لانے پر غور ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسی کسی ایک واقعے کے ردعمل میں نہیں بلکہ آئندہ چیلنجز کو مدنظر رکھ کر بننی چاہیے۔

جسٹس جویمالیہ باگچی نے کہا کہ تجارتی تقریر (Commercial Speech) پر اظہارِ رائے کی آزادی عام تقریر کی طرح لاگو نہیں ہوتی۔ جب آپ اپنی بات کو کاروباری انداز میں پیش کرتے ہیں تو کسی کمیونٹی کے جذبات کو مجروح نہیں کر سکتے۔

عدالت کا واضح حکم

عدالت نے کہا کہ کامیڈینز اپنے یوٹیوب چینل پر معافی نامہ پوسٹ کریں اور عدالت کو بتائیں کہ وہ کتنا جرمانہ بھرنے کے لیے تیار ہیں۔

سینئر وکیل سنگھ نے تجویز دی کہ جرمانے کی بجائے انہیں معذور افراد اور نایاب بیماریوں کے مریضوں کے فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کے بقول:
"انہیں اپنے اثر و رسوخ کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے دیا جائے، یہی سب سے بہتر معافی ہوگی۔”

تمام کامیڈینز نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading