پہلی قسط:سفرِ اورنگ آباد کے منفی تاثرات۔ سیّد مودودی کا منہدم مکان

اورنگ آباد کے سفر کا جب ارادہ کیا تھا تو سلطانِ عالی مقام شہنشاہ اورنگ زیبؒ کی آخری آرام گاہ پر حاضری کے ساتھ ساتھ یہ بھی مقصد تھا کہ فکر اسلامی کے عظیم شارح و ترجمان بانئ جماعت اسلامی سید مودودیؒ کے مکان پر بھی حاضر ہوں گے، لیکن جب ہم سید مودودیؒ کے مکان پر پہنچے تو یہ دیکھ کر ہم سب حیرت زدہ رہ گئے کہ ان کے مکان کو منہدم کرکے وہاں ایک نئی عمارت کسی پروجیکٹ کےنام سے تعمیر کی جارہی ہے،

ہماری حیرت زدگی افسوس اور شدید الم میں تبدیل ہوئی اور ہم واپس لوٹ آئے، ہم نے اپنے مقامی رہبروں/دوستوں سے دریافت کیا کہ بھئی کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں تھا؟ انہوں نے بھی انتہائی حیرت و استعجاب کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہم لوگ یہیں اورنگ آباد میں رہتے ہیں لیکن ہمیں بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ سید مودودیؒ کا مکان منہدم کرکے اس جگہ پر نئی عمارت بنائی جاچکی ہے!

یہ منظر انتہائی تکلیف دے گیا اور مسلسل موصول ہونے والی یہ اطلاعات ذہن میں گردش کرنے لگیں کہ موجودہ جماعت اسلامی ہند کو سید مودودیؒ سے کوئی خاص قلبی وابستگی اور والہانہ لگاؤ نہیں ہے،
ہم نے قاسم نانوتویؒ کا مکان دیکھا ہے، تھانہ بھون دیکھا ہے، شیخ زکریا کی مسند دیکھی ہے اور بےشمار اعیان و عظما کی باقیات آثارِ سلف کے طورپر دیکھی ہیں، ان کے بعد والوں نے اپنے بزرگوں اور بانیوں کے آثار کو محفوظ رکھا ہے،

یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آئی کہ کئی کئی سو سالہ قدیم مکانات باقی ہیں لیکن سید مودودیؒ کا مکان باقی نہیں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، اور اسی جگہ پر کوئی پروجیکٹ چلانے کی جلدبازی کی گئی ! جبکہ مودودی صاحب کےنام پر وہ پروجیکٹ کسی مرکزی شہر میں چلانے کی ضرورت تھی نا کہ ان کا مکان منہدم کرنے کے لیے پروجیکٹ کو بہانہ بناتے، اور ان کی روحانی یادگار کو زمین بوس کرکے وہاں ان کی کمپیوٹرائز یادگار بنانا جو روحانی احساسات سے خالی ہو یہ مادیت کا تماشا ہے،

سید مودودی کوئی مقامی امیر یا جماعت کی کسی میقات کے امیر نہیں تھے بلکہ وہ بانی تھے، وہ فکر اسلامی کے ایسے عظیم اور عالمگیر نمائندہ ہیں جن سے سید قطبؒ جیسی شخصیتوں نے استفادہ کیا، وہ تحریکِ اسلامی کی سند اور حوالہ ہیں، ان کی جائے پیدائش سے لےکر ان کے فکری ارتقاء سے جڑی یادوں کو زمین بوس کرنا اور ان کے چاہنے والوں کو ان سے جڑی جذباتی وابستگی سے محروم کرنا کوئی اچھا کام نہیں ہے،

یہ صرف اور صرف روح کے مقابلے میں آخری درجے کی مادیت ہے، شکوہ ہے مجھے اورنگ آباد کے وابستگانِ مودودی سے کہ انہوں نے اس حادثے کو ٹالنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اور اس غیرمعقول طرح سے کون بیوقوف بناتا ہے کہ صاحب وہ مکان کمزور ہوگیا تھا جبکہ آج کے دور میں قدیم۔ترین یادگاروں کو سہارا دےکر باقی رکھنے کی تکنیک وجود میں آگئی ہے، ہم تو کہتے ہیں کہ سید مودودی کے مکان کو کھنڈر کے طورپر بھی باقی رکھنا چاہیے تھا اس میں بھی اثر زیادہ ہوتا

جو لوگ دن بھر غیر جذباتی ہونے کا دعویٰ کرتے رہے وہ اس قدر مشینی ہوجائیں گے سوچا نہیں تھا یہ دراصل غیرجذباتیت اور عقلّیت پسندی کی تصویرِ عبرت ہے ! ایسی مشینی تنظیم وسیع نظریاتی نسل کبھی تیار نہیں کرپاتی بس وہ آپس ہی میں گھٹتی بڑھتی رہ جاتی ہیں عام انسانوں میں ان کی رسائی نہیں ہوپاتی ہے،

مجھے شدید تکلیف و الم ہے، سید مودودیؒ کے آثار کسی بھی تنظیم کی پرائویٹ پراپرٹی نہیں تھے،
اتنے عظیم انسان کی یادوں کو ان کی اولادوں کے بھی کہنے پر منہدم نہیں کرنا چاہیے تھا چہ جائیکہ ان کی بنائی ہوئی تنظیم کے لوگ ایسی بےحِسی کی ہمت کرڈالیں ! دل تو ہمارے بری طرح ٹوٹے اور سارا سفر اسی کبیدگی کی نذر ہوگیا لیکن کون پوچھے موجودہ خداوندانِ جماعت سے…… فالی اللہ المشتکی!

✍: سمیع اللہ خان

samiullahkhanofficial97@gmail.com

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading