ریاض ۔ سعودی عرب میں ترک مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے والی مقبول مہم نے گذشتہ کچھ دنوں میں مزید زور پکڑ لیا ہے۔سیاسی تجزیہ نگار اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹرحمدان الشھری نے کہا ترکی مصنوعات کی اس مقبول بائیکاٹ کے پیچھے ترکی کی سیاسی پیچیدگیوں اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں مداخلت ہی اصل وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ملک کے مسائل کو کم کرنے کی اپنی سابق پالیسی میں تبدیلی کی اور اسے بیرون ملک برآمدکیا۔ ترکی خطے میں اسی طرح دھمکی دے رہا ہے جس طرح ایران دہشت گرد ملیشیاو¿ں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں خطے کے ممالک میں پھیلارہا ہے اور اخوان کی حمایت کے ذریعہ جسے دنیا کے متعدد ممالک میں ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر درجہ بندکیاگیا ہے۔ یہ عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں کے لیے براہ راست علاقائی سلامتی کا خطرہ ہے۔
خاص طور پر ترکی نے قطری بحران سے فائدہ اٹھانا اور فلسطینی کازکی مسلسل نیلامی سے۔ڈاکٹر الشھری نے کہا کہ ترک مصنوعات کا مقبول بائیکاٹ سعودی عوام اوردیگر لوگوں کا ایک پیغام تھا جو خطے کے ممالک کے ساتھ ترکی کی مداخلت اور ترک دشمنی کو مسترد کرنے کی مہم سے یکجہتی کر رہے تھے جیسے اس مسئلے میں ان کی مداخلت، دو مقدس مسجدوں کے معاملے اور عراق، شام اور لیبیا میں مداخلت کا۔انہوں نے کہا کہ کویڈ 19 کی وجہ سے بائیکاٹ عالمی معاشی بحران کو متاثرکرنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس نے وبائی بیماری سے نمٹنے میں اور اردوغان کی بد انتظامی اور ترک لیراکی بڑی کمزوری دونوں کو ثابت کیا۔ مقبول بائیکاٹ کو مقامی کمپنیوں کی بھی حمایت حاصل ہے ۔ ریاض کے سب سے قدیم اسٹورز میں سے ایک السدحان گروپ نے اس مہم کے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اس کے سی ای او عید الغنزی نے کہا ہے کہ جب ترکی نے مملکت اور اس کی قیادت کے ساتھ واضح دشمنی کا مظاہرہ کیا تھا تو معاشرے کے لیے ترک مصنوعات خریدنا اور فروخت کرنا مناسب نہیں تھا۔ السدحان گروپ نے اس بات پر زور دیا کہ اس نے تمام ترک مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے والی کمیونٹی کی کوششوں کی حمایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ السدحان ٹریڈنگ کمپنی اور ایس پی اے آر سٹورز جو اس گروپ کی ذیلی تنظیمیں ہیں نے براہ راست ترکی سے کوئی سامان درآمد نہیں کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گروپ کی اعلیٰ انتظامیہ نے السدحان اور سپار سوپر مارکیٹوں کو ترکی کی مصنوعات کی فروخت بند کرنے کی ہدایت دی تھی۔ السدحان گروپ ان قومی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جو مذہب، بادشاہ اور ملک کی خدمت کریں۔ ملک اور سعودیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جانے والی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کریں گے۔الغنزی نے کہا کہ ترکی کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ضروری تھا کیونکہ ترکی نے مملکت سے اپنی دشمنی ظاہرکر دی ہے۔ یہ ہر شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے جو مملکت اور سعودی قیادت کا احترام نہیں کرتاہے۔ بائیکاٹ کرنا کسی بھی دیگر ہتھیارکی طرح موثر تھا جو ریاست کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔