سر عام سزا اور مذہبی جنونیت ✍:پرویز نادر


امت کے کئی سارے مسائل میں کیا اب یہ بھی باقی رہے گیا ہے کہ مسلم نوجوانوں کا ہندؤوانہ رسم رواج میں شرکت اور پھر خود کے لیے ذلت کا سامان کرنا،سر عام رسوا ہونا، اور پھر قید و بند کی سزا، مقدمات میں وقت اور پیسوں کا ضیاء ، آخر یہ چل کیا رہا ہے بھائی۔رام نومی اور دیگر پاتراؤں کا مسلم محلوں سے گزرنا ،

اس دوران مساجد اور مسلمانوں کی املاک پر پتھر بازی ،فساد کی کوشش یہ سب سمجھ آتا ہے،لیکن ایسے مذہبی پروگرام اور مخصوص پوجا پاٹ کے جلسے جو ہندو علاقوں اور پنڈالوں میں ہوتے ہوں وہاں مسلم نوجوانوں کا کیا کام؟ایک حدیث میں رسول ﷺ کا ارشاد گرامی ہے


جریر بن بجیلہ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص مشرکین کے ساتھ ان کے علاقوں میں مقیم ہے اس کا ذمہ ختم ہوگیا۔
(السلسلۃ الصحیحۃ ۱۶۲۷)
درج بالا حدیث کی رو سے مشرکین کے درمیان مخلوط سوسائٹی کا نقصان تو ہم جھیل ہی رہے ہیں لیکن اب ان کی مذہبی تقاریب میں شامل ہوکر خود کی رسوائی کا سامان کیوں کیا جا رہا ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے زنا جسیے سنگین جرم پر سر عام سنگسار کرنے کی سزا دیے جانے پر تلملا اٹھنے والی قوم جب گجرات کے ایک کھیڑا ضلع میں نو مسلم نوجوانوں کو پولس سر عام سزا دے رہی تھی تو جھوم اٹھتی ہے ،تالیاں پیٹتی اور سیٹیاں بجاتی ہے،مدھیہ پردیش کے ضلع مندسور کے گاؤں سورجنی میں تین مسلم نوجوانوں کے عالیشان مکانات کو گربا

میں شرکت اور پتھراؤ کے الزام میں بلڈوزر چلواکر تباہ کردیا گیا،مطلب اب مقدمے کے فائل ہونے پر جرم کی تحقیق، ثبوت ،گواہ، سزا کا کوئی پروسیس نہیں بس جس کو مجرم سمجھ لیا فی الفور سزا دے دی یہ ہم کس جنگل راج میں رہے رہے ہیں بھائی!!

لیکن یہ بات مسَلٌم ہے کہ مسلم دشمنی کے ان واقعات کو دیگر لوگ جو بھی سمجھیں ہم تو اسے ہندو انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت ہی سمجھتے ہیں، جس میں مسلم دشمنی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading