نئی دہلی:7/ جون ۔ ( ایجنسیز) جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے سری نگر گورنمنٹ میڈیکل کالج کے ایک طالب علم کے ذریعہ شان رسالت میں گستاخی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مولانا مدنی نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے نام مکتوب میں پیش آمدہ واقعہ کے خلاف فوری کارروائی اور منصفانہ مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح ہو کہ میڈیکل کالج کے غیر مسلم طالب علم نے مبینہ طور پر سوشل سائٹ ’کالر ایپ‘ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گستاخانہ تبصرہ پوسٹ کیا ہے۔مولانا مدنی نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ اس ملک کے شہری ہونے اور رحمت و ہدایت کے عظیم پیامبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہونے کے ناتے، ہم نہ کسی مذہب اور اس کی مقدس شخصیات کی توہین روا رکھتے ہیں اور نہ ہی پیغمبر اسلام کے خلاف ایسی حرکتوں کو قبول کر سکتے ہیں
اس طرح کے اعمال پر پولیس انتظامیہ کی سرد مہری اور معمولی محکمہ جاتی کارروائی پوری دنیا کے مسلمانوں کی مزید دل آزاری کا باعث بنتی ہے۔صدر جمعیۃ علماء ہند نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک انفرادی واقعہ نہیں ہے، وادیٔ کشمیر میں پچھلے سال این آئی ٹی میں اسی طرح کا واقعہ رونما ہوا تھا۔
ان واقعات کے تسلسل سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ اس کے پس پشت نفرت پر مبنی نظریاتی تحریک ہے۔ اس طرح کی حرکتیں وادی میں مشکلات کو مزید گہرا کر سکتی ہیں، جو پہلے ہی سے انتشار کا شکار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان تفرقہ انگیز ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا جائے اور انھیں فیصلہ کن طریقے سے روکا جائے۔