اب اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں رہی کہ جس مقام پر بھی کسی بھی ہندو بھگوان کے نام پر کوئی ریلی نکالنے کی کی کوشش کی جائے وہ صرف ریلی اور وہاں پھوٹ پڑنے والے فسادات کوئی حادثاتی یا اتفاقی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہیں۔ جس کے ذریعے مسلم بستیوں سے گزر کر پورے جنگی سازش سامان کے ساتھ فسادات برپا کرنے اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا مقصد ہندوتوادی دہشت گردوں اور ان کی مدد گار پوری پولس ڈپارٹمنٹ کا ہے،کل کا دہلی کا تشدد بھی اسی کی ایک کڑی ہے ،
جہاں جہانگیر پوری میں فساد برپا کرنے کے لیے مسجد پر بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی گئی اس کے بعد پورا فساد برپا کیا گیا پھر وہی اسکرپٹ، پولس کا کردار، مسلم نوجوانوں کی ایک طرفہ گرفتاریوں کا سلسلہ، اب سوال یہ ہیکہ ملک کے دیگر مقامات پر مسلم جماعتوں اور سیاسی لیڈران کے پہنچنے سے پہلے بہت کچھ ہوجاتا ہے،سب ہونے کے بعد باز آباد کاری کی کوشش بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن ایسا شہر جو نا صرف بھارت کا دارالحکومت ہے، بلکہ قریب ہر مسلم جماعت کا ہیڈ کوارٹر یا مرکز بھی ہے وہاں اب تک ان کی نمائندگی کی کوئی خبر نہیں ہے
جبکہ مسلم نوجوانوں کی بے دریغ اور یک یک طرفہ گرفتاریاں شروع ہیں ۔ کیا ضرورت اس بات کی نہیں ہیکہ سبھی مسلم نمائندگی کے دعویدار شخصیات اور ذمہداران کو وہاں پہنچ کر اپنی موجودگی کا احساس کروایا جائے اور ہندوتوادی دہشت گردوں کو ان کے جرائم کی پاداش میں گرفتار کرنے پر پولس پر دباؤ بنایا جائے نیز بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کو روکا جائے،