زندگی کی جنگ ہار گیا دو سالہ معصوم، بورویل سے نکالی گئی سُجیت کی لاش

ضلع تیرو چیرا پلی کے ناڈو کٹوپٹی گاؤں میں تقریباً 100 میٹر گہرے بورویل میں گرا دو سالہ معصوم بالآخر سجیت ولسن زندگی کی جنگ ہار گیا اور منگل کی صبح اس کی لاش کو باہر نکالا گیا۔ ریونیو کمشنر نے علی الصبح تقریباً دو بجکر کر 30 منٹ پر میڈیا کو سجيت کی موت کی اطلاع دی۔

سجيت جمعہ کی شام تقریباً پانچ بجکر 40 منٹ پر کھیلتےکھیلتے اپنے والد کے کھیت میں بنے بورویل میں گر گیا تھا۔ وہ گرنے کے بعد 30 فٹ کی گہرائی میں پھنس گیا تھا۔ اس کے بعد رات میں وہ مزید کھسکتے ہوئے تقریباً 100 فٹ کی گہرائی میں جا کر پھنس گیا تھا۔ معصوم کو بچانے کے لئے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کا ریسکیو آپریشن چار دنوں سے مسلسل جاری تھا، لیکن اس کو بچایا نہیں جا سکا۔


راہل نے سجيت کی موت پر دکھ ظاہر کیا

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بورویل میں پھنسے دو سالہ سجيت ولسن کی موت پر دکھ ظاہر کیا۔ راہل گاندھی نے منگل کے روز ٹوئٹ کرکے اپنے تعزتی پیغام میں کہا ’’میری تعزیت سجیت کے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ ہے‘‘۔


ادھر، مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن نے بھی بورویل میں پھنسے دو سالہ معصوم سجيت ولسن کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے منگل کے روز ٹوئٹ کرکے اپنے تعزتی پیغام میں کہا کہ کئی گھنٹے زندگی اور موت سے جنگ لڑنے والے سجيت کی موت سے وہ بہت دکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’70 گھنٹے سے زیادہ وقت تک موت سے جنگ لڑنے والے سجيت ولسن کی موت سے میں بہت دکھی ہوں۔ میرے دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ سوگوار کنبے کے تئیں میری تعزیت۔ سجيت کی روح کو ابدی سکون ملے‘‘۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading