ناندیڑ:9۔اگست۔ مہنگائی کے دور میں ریلوے مسافروں کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے اشارہ دیا ہے کہ بھارتی ریلوے کی مالی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے بعد مستقبل میں مسافروں کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
وزیر ریلوے کے مطابق بھارتی ریلوے نے گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً ایک لاکھ 93 ہزار کروڑ روپے کا قرض ادا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قرض پر واجب الادا سود بھی مکمل طور پر چکا دیا گیا ہے، جبکہ اس عرصے میں کوئی نیا قرض بھی نہیں لیا گیا۔ قرض کی ادائیگی کے بعد ریلوے کی مالی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے، جس سے آمدنی میں اضافہ اور ترقیاتی منصوبوں کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔
اشونی ویشنو نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے ریلوے کی ترقی کے لیے بجٹ میں ریکارڈ فنڈ مختص کیا ہے۔ اسی مالی تعاون کی بدولت ریلوے کو قرض کی ادائیگی میں کامیابی ملی ہے۔ اب یہی بجٹ نئی سہولتوں، جدید ٹیکنالوجی، ریلوے کے ڈیجیٹلائزیشن، نئی ٹرینوں کی تیاری، موجودہ ٹرینوں کے توسیعی منصوبوں اور میٹرو اسٹیشنوں کی تعمیر پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ریلوے کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرض لینا پڑتا تھا، لیکن موجودہ حکومت کے دور میں بجٹ کی بہتر منصوبہ بندی کے باعث اب قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ریلوے نے تقریباً 93 ہزار کروڑ روپے سود کی مد میں جبکہ تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے اصل قرض کی مد میں واپس کیے ہیں۔
وزیر ریلوے نے مزید بتایا کہ کورونا وبا کے دوران ریلوے کو مرکزی وزارتِ خزانہ سے تقریباً 79 ہزار کروڑ روپے قرض لینا پڑا تھا، تاہم اب وہ قرض بھی مکمل طور پر ادا کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت اب ریلوے کے لیے مزید جدید سہولتوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ممبئی کے ریلوے اسٹیشنوں کی توسیع کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ تاہم قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد مسافروں کو کون سی نئی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، اس بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔