ممبئی:(ورق تازہ نیوز) خواتین واطفال بہبود کی وزارت کی جانب سے ٹیک ہوم راشن اسکیم میں تقریباً ۶ ہزار ۳ سو کروڑ روپئے کے کنٹریکٹ کو سپریم کورٹ نے رد کرتے ہوئے حکومت کو زبردست طمانچہ رسید کیا ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے بچوں کوپکایا ہوا تازہ کھانا دینے کے بجائے پریمیکس پاکٹ دینے کا کنٹریکٹ حکومت نے بدعنوانوں کو دیا تھا، اسے بھی عدالت نے رد کردیا ہے۔ اس محکمے کی جانب سے کچھ بدعنوانوں کو فائدہ پہونچانے کے لئے تمام مہیلا بچت گٹ کو تباہ کردیا گیا۔ عدالت کے فیصلے سے یہ بات اب ظاہر ہوچکی ہے کہ اس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے
اس لئے اس معاملے کی فوری طور پر سی بی آئی سے جانچ کرائی جائے اور اس کے ذمہ دار وزیر کو فوراً وزارت سے برطرف کیا جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کی ہے۔یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ ٹی ایچ آر گھوٹالہ ریاست کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے اور حکومت تین مبینہ اداروں کو فائدہ پہونچانے کے لئے اسے نافذ کئے ہوئے تھی۔ حکومت نے مہیلا بچٹ گٹوں کو فی کس ۵۲ لاکھ روپئے انویسٹمنٹ کرنے کی شرط عائد کی تھی، لیکن کنٹریکٹ دیتے وقت ایسے شرائط کا اطلاق کیا گیا کہ صرف تین اداروں کو ہی اس کا فائدہ مل سکے۔ بچٹ گٹوں سے وابستہ لاکھوں خواتین کو روزگار فراہم کرنے کے لئے کانگریس حکومت کے دور میں بچت گٹ اداروں کے ذریعے ٹی ایچ آر اسکیم لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن بی جے پی وشیوسینا کی حکومت نے کچھ مافیا کو فائدہ پہونچانے کے لئے لاکھوں ضرورت مند خواتین کے مفاد کو طاق پر رکھ دیا۔ ان خواتین نے کئی بار احتجاج بھی کیا ، لیکن حکومت کا دل نہیں پسیجا۔ انہوں نے کہا کہ چکی گھوٹالہ میں بھی یہی مافیا شامل تھا۔ خواتین واطفال بہود وزارت میں انہیں مافیا کا قبضہ ہے۔ اس لئے اس وزارت کو مافیا وکاس منترالیہ کیوں نہ کہا جائے؟ سچن ساونت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے جب اس تعلق سے فیصلہ دیا تھا تو اس وقت کانگریس نے اس پورے معاملے کی سی بی آئی کے ذریعے انکوائری کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے سے اس کنٹریکٹ کو رد کردیا ہے تو کم ازکم اب تو حکومت بیدار ہو اور ٹی ایچ آر، موبائیل خریداری سمیت خواتین واطفال بہبود کی وزارت نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں جو خریداری کی ہے اور جو کنٹریکٹ دیا ہے، اس کی انکوائری سی بی آئی کے ذریعے کرائے۔