ریاستی حکومت معیشت کو تباہ کرکے عوام کے پیسے کو برباد کررہی ہے: اشوک چوہان

ممبئی:2ڈسمبر۔(ورقِ تازہ نیوز) ریاستی حکومت کی معاشی نظام مکمل طور پر بگڑا ہوا ہے۔ یہ اب صاف طور پر نظر آنے لگا ہے کہ بی جے پی شیوسینا کے دورِ حکومت میں ریاست پر قرض کا بوجھ بے انتہا بڑھ گیا ہے۔ احمد نگر ضلع میں نلونڈے سنچن پروجیکٹ کے لئے شرڈی میں دیئے گئے پیسے کا حکومت استعمال کررہی ہے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چوہان نے کہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پروجیکٹ عوامی ٹیکس سے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن حکومت کا کوئی معاشی نظام نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ ۴ برسوں میں اس بی جے پی وشیوسینا حکومت نے ریاست پر ۵لاکھ کروڑ سے زائد قرض کا بوجھ لاد دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پٹرول وڈیژل پر خشک سالی نیز ہائی وے کے قریب شراب کی دوکانیں بند کرنے کی وجہ سے زائد سیس لگاکر عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت میں آنے کے بعد بڑے بڑے وعدے کرکے وائیٹ پیپر نکالنے والی حکومت کی اصلیت اجاگر ہوگئی ہے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ سنچائی پروجیکٹ پر گزشتہ حکومت کی جانب سے کئے گئے اصلاح پر انگشت اٹھانے والی بی جے پی حکومت نے گزشتہ تین سال میں ۴۶ ہزار کروڑ سے زائد اصلاحی انتظام کو منظوری دی ہے۔ جل یوکت شیوار میں ہوئی بدعنوانی منظرِ عام پر آچکی ہے۔ اسی کے ساتھ فائننس کمیشن نے اس بات پر مہر لگادی ہے کہ ریاست میں سنچائی کی سہولیات میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ سطح زمین آبی سروے کی اس رپورٹ میں بھی یہ انکشاف ہوا ہے کہ ریاست کے تقریبا۱۳ ہزار گاو¿ں میں زیرِ زمین آبی سطح میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی ہے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کرنے کے بعد اب حکومت نے مندروں وغیرہ میں عوام کے دیئے ہوئے چندوں کے پیسے کا استعمال شروع کردیا ہے۔ مندروں کے انتظامی عہدوں پر اپنے پارٹی سے متعلق لوگوں کی نامزدگی کرنے کے بعد ان کے ذریعے سے من چاہے فیصلے کرنا یہ مودی ماڈل اب ریاست میں شروع ہے۔ ریزور بینک کے پیسے پر مودی حکومت جس طرح نظریں گاڑے ہوئے ہے ، اسی طرح مہاراشٹر میں مختلف مندروں کے پیسوں پر حکومت کی نگاہ ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading