روسی خواتین قرآن کی تعلیم کی نگرانی کرتی تھیں: شام و عراق کے داعش امیر کی بیوی کا انٹرویو

شام و عراق میں داعش کے امیر کی بیوی ام خدیجہ الشیشانیہ نے "العربیہ” کے ساتھ ایک انٹرویو میں دہشت گرد تنظیم میں اپنی شمولیت اور کئی دیگر خفیہ تفصیلات کا انکشاف کیا۔

داعش کی قیادت میں دوسرے نمبر کے شخص عبداللہ مکی الرفیعی کی بیوی نے جمعہ کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ میرے شوہر نے مجھے آہستہ آہستہ بدلا اور وہی میرے داعش میں شامل ہونے کا سبب بنے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے قرآن پڑھنا نہیں آتا تھا اور روسی استانیوں نے تنظیم کے اندر ہمیں قرآن پڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ دینی کلاسز سے غیر حاضری پر سزائیں دی جاتی تھیں۔ ام خدیجہ الشیشانیہ نے یہ بھی کہا کہ میرے شوہر نے مجھے سکھایا کہ تنظیم کے اندر حلال اور حرام لچکدار ہیں
غیر ملکی خواتین عربوں سے زیادہ مہنگی
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تنظیم میں میری شمولیت کے آغاز میں کوئی دینی کلاسز نہیں تھیں لیکن میرے شوہر کی وفات کے بعد مجھے منبج میں ایک مضافے میں منتقل کر دیا گیا اور وہاں ہم نے قرآن سیکھنا شروع کیا۔ اس کے بعد ہمیں عقیدہ اور فقہ کی کلاسز زبردستی پڑھائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ نصیبہ بٹالین خواتین کو ان کی نیتوں کے مطابق تقسیم کرتی تھی۔ خودکش حملے کرنے کی خواہشمند زیادہ تر یورپی قومیت کی تھیں۔ اس شعبہ میں چیچن اور روسی خواتین بہت کم تھیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ داعش میں ہر عورت کی ایک قیمت تھی اور غیر ملکی خواتین عربوں سے زیادہ مہنگی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے 18,000 ڈالر میں اپنی آزادی خریدی تھی۔ میں نے کئی سالوں تک مضافات میں بیوہ کے طور پر زندگی گزاری اور مجھے سبایا (لونڈیاں) کے بارے میں تفصیلات صرف آنے والی خواتین سے ہی سننے کو ملیں۔ میں کسی بھی یزیدی خاتون سے 2019 تک نہیں ملی تھی۔

یزیدی خواتین اور سبایا
شام و عراق میں داعش کے والی یا امیر کی بیوی نے یزیدی خواتین کی تقدیر کو دیکھنے کا لمحہ بیان کیا اور خود کو داعش تنظیم میں ایک سبیہ کے طور پر تصور کیا اور کہا کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتی تو برداشت نہ کر پاتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے سبایا کے بارے میں ویڈیوز دیکھیں اور خود کو ان کی جگہ تصور کیا مجھے لگا کہ ان کے ساتھ جو ہوا وہ غیر انسانی تھا اور اگر میں ان کی جگہ ہوتی تو ایک لمحہ بھی برداشت نہ کر پاتی۔

حواء الشیشانیہ نے بتایا کہ ابو خدیجہ چھپنے کے لیے کس طرح دھوکہ دہی کا استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ راتوں کو سو نہیں پاتے تھے اور ناسف بیلٹ ان سے کبھی جدا نہیں ہوتا تھا۔

کبھی جدا نہ ہونے والا ناسف بیلٹ
حواء الشیشانیہ نے یہ بھی کہا کہ وہ ہمیشہ دو ناسف بیلٹ پہنتے تھے کیونکہ انہیں انبار کے صحرا میں اپنے گڑھ پر امریکی افواج کی فوری لینڈنگ کی توقع تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک امریکی طیارے کے ان کی گاڑی کا تعاقب کرنے کے دوران اس لمحے انہوں نے مجھ سے ناسف بیلٹ پہننے کو کہا تو میں نے انکار کر دیا لیکن انہوں نے مجھے مجبور کیا تاکہ میں امریکی افواج کے قبضے میں نہ آؤں۔ حواء الشیشانیہ نے بتایا کہ وہ دو بار راکٹ حملے سے بچ گئی تھیں اور عراق کے انبار صحرا میں کئی بار محاصرے سے بھی بچ گئیں۔

اپنے شوہر کی موت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ اچانک ہوا اور مجھے ایک دن بعد کوئی واضح تفصیلات یا ان کی لاش دیکھے بغیر اطلاع دی گئی۔ انہوں نے مجھے ہفتہ کو بتایا اور کہا کہ وہ جمعہ کو مر گئے تھے۔

یاد رہے گزشتہ مارچ میں بغداد نے عبداللہ مکی مصلح الرفیعی المعروف ابو خدیجہ کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ ابو خدیجہ کو جولائی 2023 میں امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہں عراق اور دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گردوں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنی طرف سے کہا تھا کہ الرفیعی کا خاتمہ عراقی سکیورٹی اداروں کے تعاون سے انبار صوبے میں ایک "درست” فضائی حملے کے ذریعے کیا گیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading