’روح افزا‘ کو سپریم کورٹ نے مانا ’فروٹ ڈرنک‘،الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ، اب لگے گا صرف 4 فیصد وَیٹ

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے بدھ کو ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کے مشہور شربت ’روح افزا‘ کے حوالے سے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے روح افزا کو فروٹ ڈرنک مانتے ہوئے کہا ہے کہ ’’روح افزا کو فروٹ ڈرنک/پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹ کے زمرے میں رکھا جائے گا اور اس پر 12.5 فیصد کے بجائے صرف 4 فیصد وَیٹ لگے گا۔‘‘

واضح رہے کہ یہ فیصلہ اترپردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکٹ، 2008 (یوپی وَیٹ ایکٹ) کے تحت ٹیکس کے تعین سے متعلق ہے۔جسٹس بی وی ناگرتھنا اور آر مہادیون کی بنچ نے کہا کہ کئی ریاستوں میں روح افزا کو پہلے سے ہی رعایتی در پر ٹیکس کے دائرے میں رکھا گیا ہے، جس سے ہمدرد کی دلیل مضبوط ہوتی ہے۔ بنچ نے مانا کہ مصنوعات کو فروٹ ڈرنک ماننے کی تشریح نہ تو مصنوعی تھی اور نہ ہی غلط تھی بلکہ تجارتی طور پر مستند اور حقیقی تھی۔عدالت نے کہا کہ روح افزا کو ایکٹ کے شیڈول-2 کے اندراج 103 کے تحت فروٹ ڈرنک یا پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹ کے طور پر درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے متعلقہ تشخیصی سال کے دوران یہ مصنوعات 4 فیصد کی رعایتی وَیٹ شرح پر ٹیکس کے قابل ہو گی۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کی اپیل منظور کر لی اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں روح افزا کو نان-فروٹ (بغیر پھل والا) اور مصنوعی اجزاء سے تیار کردہ مشروب قرار دیتے ہوئے زیادہ وَیٹ لگانے کی بات کہی گئی تھی۔دراصل یہ تنازعہ ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کے مقبول ڈرنک کنسنٹریٹ شربت روح افزا کے اتر پردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکٹ، 2008 کے تحت ٹیکس کی درجہ بندی سے پیدا ہوا تھا۔

یہ تنازعہ اس بات سے متعلق تھا کہ کیا پروڈکٹ کو یوپی وَیٹ ایکٹ کے شیڈول-2 کے پارٹ اے کی انٹری 103 کے تحت 4 فیصد ٹیکس کے قابل فروٹ ڈرنک/پروسیسڈ فروٹ مانا جائے یا شیڈول-5 میں دیگر اشیاء کی انٹری کے تحت 12.5 فیصد ٹیکس کے قابل غیر درجہ بند شے (کموڈٹی) مانا جائے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading