رمضان ہمدمی کے جذبے کو فروغ دینے اور نفرت پر قابو پانے کی تحریک دیتا ہے: امریکی صدر ٹرمپ کا تہنیتی پیغام

واشنگٹن 6 مئی [ایجنسیز]صدر امریکہ ڈونیلڈ جے ٹرمپ نےرمضان کے مقدس مہینے میں مذہبی فریضہ انجام دینے والے امریکہ اور دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو دل کی گہرائیوں سے تہنیت ارسال کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ’’ رمضان کے جذبے میں ہم سب مل کر ایک مزید ہم آہنگ اور بااخلاق معاشرہ تخلیق کرنے کا مقصد پا سکتے ہیں‘‘۔
اس تمہید کے ساتھ کہ ’’میرے ساتھ میلانیا بھی ۔۔۔رحمتوں بھرے اس مہینے کی آمد پر مسلمانوں کے لئے نیک خواہشات پیش کرتی ہیں‘‘اپنے تہنیتی پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ مبارک مہینہ عطا کردہ رحمتوں پر غوروفکر اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدمی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے کام کا موقع فراہم کرتا ہے، پیغمبر اسلام حضرت محمد صلعم پر قرآن مقدس کے نزول کی یاد دلاتا ہے اور مسلمانان اس ماہ مقدس کا چاند نظر آنے پرباطنی فکر، روحانی تجدید اور عبادت کے مہینے کا آغاز کر کے اس نزول کی تعظیم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے دوران ’’مسلمان طلوع سحر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ سخاوت اور خیرخواہی پر مبنی نیک افعال انجام دیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اپنی روحانی زندگی میں مقصد سے متعلق تجدیدی احساس پیدا کرتے ہیں اور خدا کے کرم و رحمت کے لیے بھرپور شکرگزاری کرتے ہیں‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ پومپئو نے بھی اندرون و بیرون ملک مسلمانوں کے لئے رمضان مقدس کی آمد پر نیک خواہشات کا اظہار کیا اور گزشتہ ماہ تین ابراہیمی مذاہب کی عبادت گاہوں پر حملے کے پیش نظر امید ظاہر کی کہ دنیا بھر میں فرد کے اپنے عقیدے پر آزادانہ عمل کی اہلیت کو درپیش سنگین مسائل حل کئے جا سکتے ہیں اگر حکومتیں اور عوام مل کر سبھی کے لئے مذہبی آزادی کے فروغ کی خاطر اکٹھے کام کریں۔ اس طرح اُس نفرت پر قابو پا یا جا سکتا ہے جو ایسے حملہ آوروں کو تحریک دیتی ہے۔

مسٹر پومپئو نے کہا کہ رمضان بہت سے مسلمانوں کے لیے روحانی تجدید، مہربانی ، غریبوں کے لیے دردمندی اور متنوع معاشروں میں ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اس موقع پر ’’ امریکہ میں بہت سی مساجد اور گھروں میں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور ہمسایوں کا مساوات، رحم دلی اور فیاضی کی مشترکہ امریکی اقدار کے تحت خیرمقدم کیا جاتا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ رمضان تمام عقائد اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مشترکہ دردمندی، احترام اور ایک دوسرے کی مدد کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ روزانہ روزہ کھولنے اور دوسروں کو کھانے میں شریک کرنے کی بدولت رمضان ہمارے معاشرتی تعلقات میں مضبوطی لاتا اور سماجی خدمت پر زور دیتا ہے۔ ’’اسی جذبے کے تحت ہم عقیدے سے قطع نظر ایک دوسرے کے لیے اپنی باہمی ذمہ داریوں پر غوروفکر اور بہترین فرد بننے کی سعی کرتے ہیں‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت سے امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے افطار کے ساتھ استقبالیہ تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں جس سے امریکی سفارت کاری کی بنیادی طاقت کا اظہار ہوتا ہے اور مذہبی آزادی، مذہبی اقلیتی برادریوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے اور ان کے احترام اور امن کے لیے شراکتوں بارے ہمارا عزم مزید تقویت پاتا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading