بھیونڈی ( شارف انصاری ) :- ایم آئی ایم کے بھیونڈی شہر ضلع صدر شاداب عثمانی نے بھیونڈی کے ڈی سی پی انکِت گویل اور بھیونڈی کے میئر کو تحریری مکتوب پیش کرکے بھیونڈی کے دودھ بیوپاری ایسوسی ایشن کی جانب سے رمضان المبارک کے مہینے میں کی جانے والی دودھ کی کالا بازاری پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔ اس معاملے میں ایم آئی ایم کے ضلع صدر شاداب عثمانی کی قیادت میں ایک وفد نے ڈی سی پی انکِت گویل کو مکتوب پیش کرکے بتایا کہ ہر سال رمضانالمبارک کے آغاز سے ہی بھیونڈی کے دودھ بیوپاری ایسو سی ایشن کی جانب سے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ شروع کر دیا جاتا ہے اور عیدالفطر کے تہوار کے آتے آتے دودھ کی قیمت میں ۰۱ روپئے سے ۰۳ روپئے تک کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے والے غریب اور مزدوروں کے خاندان سحری کے لئے دودھ نہیں خرید پاتے ہیں اور انہیں زبردست پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔
بھیونڈی کے ڈی سی پی انکِت گویل نے رمضان المبارک میں دودھ کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے بھیونڈی دودھ بیوپاری ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو بلاکر ان سے بات کرنے کی ایم آئی ایم کے وفد کو یقین دہانی کی ہے۔ انکِت گویل نے بھیونڈی شہر میں دودھ فروخت کرنے کے لئے بیرون شہر سے آنے والے دودھ کے تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے بھی یقین دہانی کی ہے۔ واضح ہو کہ ۰۸ فیصد غریب اور پاور لوم مزدوروں کی آبادی والے پاور لوم کے شہر بھیونڈی میں دودھ کی قیمت کبھی بھی مستقل نہیں رہتی ہے۔ بھیونڈی کے دودھ بیوپاری ایسوسی ایشن کی جانب سے یہاں دودھ کی قیمت طے کی جاتی ہے۔
یہاں دودھ کی قیمت شیئر مارکیٹ کی طرح روزانہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ صبح کے اوقات میں دودھ کی قیمت ۰۶ روپئے فی لیٹر رہتی ہے تو شام میں اچانک اسے ۴۶ روپئے فی لیٹر کر دیا جاتا ہے۔ دودھ کی اس کالابازاری سے یہاں کی عوام سخت نالاں ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پولس اور ضلع انتظامیہ کو اس جانب بھرپور توجہ دیتے ہوئے دودھ کی کالا بازاری پر کنٹرول کرنا چاہئے۔