بلیا 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے ایک متنازعہ رکن اسمبلی سریندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ضروری ہو تو 25 نومبر کو منعقد شدنی ’دھرم سبھا‘ میں 1992 ء کا ایودھیا واقعہ دہرایا جاسکتا ہے۔ اس دھرم سبھا کے لئے عوام کو متحرک کرنے کی غرض سے نکالی جانے والی ریالی میں شامل بی جے پی رکن اسمبلی نے اخباری نمائندوں سے کہاکہ ان کے حلقہ باریہ کے 5000 افراد دھرم سبھا میں حصہ لیں گے جہاں زعفرانی تنظیمیں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کریں گی۔ سریندر سنگھ نے کہاکہ جہاں تک لارڈ رام کا معاملہ ہے، امن و قانون کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ وہ ہی یہ مسئلہ بھی دیکھ لیں گے۔ بی جے پی رکن اسمبلی نے کہاکہ اگر ضروری ہو تو مندر کی تعمیر کے لئے وہ قانون بھی اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں جیسا کہ 1992 ء میں بابری مسجد منہدم کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیاکہ نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومتوں کے تحت ہی رام مندر تعمیر کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سریندر سنگھ اپریل میں مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی کو ’سرینکھا‘ قرار دیتے ہوئے اور اپوزیشن کانگریس کا راون سے تقابل کرتے ہوئے مختلف گوشوں سے سخت تنقیدوں کا سامنا کیا تھا۔ سریندر سنگھ نے جولائی میں ایک اور متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’لارڈ رام بھی عصمت ریزی کے واقعات کا خاتمہ نہیں کرسکے‘۔ سریندر کے اس بیان پر کانگریس نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اُنھیں ’پاگل‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کسی پاگل خانہ میں شریک کرنے کے لائق ہیں۔