نئی دہلی 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دارالحکومت دہلی میں مسلم نعشوں کی تدفین کے لئے قبرستانوں کی کمی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ آئندہ ایک سال کے بعد یہ صورتحال مزید نازک ہوجائے گی۔ دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر قبرستان کا فوری انتظام نہیں کیا گیا تو مسلمانوں کو اپنے متوفی رشتہ داروں کی تدفین کا سنگین مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ اقلیتی کمیشن نے رپورٹ میں اس صورتحال سے فوری نمٹنے کے لئے اراضی مختص کرنے جیسے اقدامات پر زور دیا ہے اور دہلی کے مختلف علاقوں میں قبرستانوں کے لئے جگہ مختص کرنے پر توجہ دلائی ہے۔ اس رپورٹ کو چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے جاری کیا ہے۔ اقلیتی کمیشن کی جانب سے کروائے گئے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے نشاندہی کی کہ شہر میں ہر سال اوسطاً 13000 مسلم نعشوں کی تدفین عمل میں لائی جاتی ہے۔ یہاں 2017 ء تک موجودہ قبرستانوں میں 29,370 نعشوں کی تدفین کی گنجائش تھی لیکن آئندہ قبرستانوں میں نعشوں کی تدفین کے لئے جگہ باقی نہیں رہے گی۔ چیف منسٹر نے رپورٹ کے حوالہ سے کہاکہ اس وقت دہلی کے قبرستانوں کی جو صورتحال ہے وہ آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے تیزی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ریکارڈ کے مطابق دہلی کے مختلف علاقوں میں 704 مسلم قبرستان ہیں ان میں سے صرف 131 ہی کام کررہے ہیں۔ ان 131 قبرستانوں میں سے بھی 16 قبرستان قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے بند ہیں۔ جبکہ دیگر 43 قبرستانوں پر مختلف لوگوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ دہلی کے زیادہ تر قبرستان بہت ہی چھوٹے ہیں جن کا رقبہ 10 بیگھا یا اس سے بھی کم ہے اور چار فیصد قبرستانوں کا رقبہ پانچ بیگھا یا اس سے بھی کم ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ماضی قریب میں صرف چند قبرستانوں کو تیار کیا گیا تھا لیکن آبادی میں تیزی سے اضافہ کے بعد سے قبرستان بھی تنگ دامنی کا شکوہ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی عوام کی بڑی تعداد دہلی کا رُخ کررہی ہے تو شہر کے قبرستانوں میں نعشوں کی تدفین کے لئے جگہ کم پڑرہی ہے۔ اقلیتی کمیشن کے جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی میں مسلم قبرستانوں کے مسائل اور ان کی صورتحال نازک ہے۔ یہ رپورٹ دہلی حکومت کو پیش کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف محکموں اور تنظیموں کو بھی رپورٹ روانہ کی گئی ہے تاکہ اس کا فوری حل نکالا جاسکے۔