راجیہ سبھا: دہلی تشدد معاملہ پر اپوزیشن کا زبردست ہنگامہ، کارروائی کل تک ملتوی

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں دہلی تشدد پر کانگریس، عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے زوردار ہنگامہ کی وجہ سے ایوان میں وقفہ صفر اور وقفہ سوالات نہیں ہوسکا اور کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

ہنگامہ کی وجہ سے صبح میں کارروائی ملتوی کیے جانے اور لنچ کے وقفہ کے بعد کارروائی شروع ہونے پر ڈپٹی چیرمین ہری ونش نے جیسے ہی کارروائی شروع کرنے کی کوشش کی اپوزیشن اراکین ایوان کے درمیان میں آکر نعرہ بازی کرنے لگے۔ زوردار ہنگامہ کے درمیان ڈپٹی چیرمین نے انسانی وسائل کو فروغ کے وزیر رمیش پوکھریال نشنک کو سنٹرل کلچر یونیورسٹی بل۔2019پیش کرنے کے لئے پکارا۔ ہنگامہ کے درمیان ہی وزیر نے اس بل کوپیش کیا اور بی جے پی کے رکن ستیہ نارائن جاٹیہ نے اس پر بحث کی شروعات بھی کی۔ ہنگامہ کے درمیان تقریباً نصف گھنٹے تک ایوان کی کارروائی چلتی رہی۔

ہری ونش نے ہنگامہ کررہے اراکین سے اپنی اپنی سیٹوں پر واپس جانے اور خاموش رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ صبح میں چیرمین نے اس سلسلہ میں رولنگ دے دی تھی اور کہا تھا کہ ابھی دہلی تشدد پر بحث کرانے کا وقت نہیں ہے۔ حالات پرامن ہونے پر بحث کرائی جائے گی۔ اس لئے اراکین کو پرسکون رہ کر اس اہم بل پر بحث کرنی چاہیے۔اس کے بعد بھی ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی۔

ہنگامہ کے دوران ترنمول کانگریس کی شانتا چھیتری اور دو دیگر اراکین آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر ایوان کے درمیان میں آکر نعرہ بازی کرتے رہے۔ اس سے پہلے چیرمین ایم وینکیا نائیڈو نے صبح ایوان کی کارروائی شروع کرتے ہوئے ضروری دستاویز ایوان کی میز پر رکھوا ئے اور کہا کہ دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں چل رہے حالات پر کئی اراکین سے نوٹس ملے ہیں اور اس معاملہ پر بحث بھی بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ لیکن بحث سے پہلے حالات معمول پر آنے چاہئیں۔ تمام جماعتوں اور اراکین کو حالات معمول پر لانے میں تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ نوٹسوں پر ایوان کے لیڈر اور ایوان میں اپوزیشن کے لیڈرکے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے بعد بحث کا وقت طے کیا جائے گا۔ اس پر اپوزیشن کے رکن اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور شور و غل کرنے لگے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading