دیوالی پر غیر مسلموں سے تحفہ قبول کرنے کے جواز کی شرائط

از : مفتی معمور بدر مظاہری قاسمی۔

سوال : غیر مسلموں کے تہوار جیسے ہولی، دیوالی، کرسمس ڈے، کے موقع پر ان کی طرف سے بھیجی گئی مٹھائی کھانا، یا کوئی اور تحفہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب : غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر ان کی طرف سے بھیجی گئی مٹھائی کھانا، یا کوئی اور تحفہ لینا جائز ہے-

چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : کفار کی عید کے دن ان سے تحائف قبول کرنے کے بارے میں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوروز کے دن انہیں تحفہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول کر لیا۔

اور مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے کہ : ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کیا : ہمارے بچوں کو دودھ پلانے والی کچھ مجوسی خواتین ہیں، اور وہ اپنی عید کے دن تحائف بھیجتی ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ : "انکی عید کے دن ذبح کئے جانے والے جانور کا گوشت مت کھاؤ، لیکن نباتاتی اشیاء (پھل فروٹ) کھا سکتے ہو-”

ان تمام روایات سے پتہ چلتا ہے کہ کفار کی عید کے دن ان کے تحائف قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ عید یا غیر عید میں انکے تحائف قبول کرنے کا ایک ہی حکم ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے انکے کفریہ نظریات پر مشتمل شعائر کی ادائیگی میں معاونت (مدد) نہیں ہوتی-

البتہ کفار کی عید کے دن ان کو ہدیہ دینے حرام ہے، کیونکہ یہ انکے کفریہ نظریات اور عقائد پر رضامندی کا اظہار اور معاونت ہے، جو کہ حرام ہے، یعنی غیر مسلموں کے تہوار پر ان کا تحفہ لے تو سکتے ہیں، لیکن انکو دے نہیں سکتے-

اس کے بعد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے متنبہ کرتے ہوئے بتلایا کہ اہل کتاب کا ذبیحہ اگرچہ حلال ہے، لیکن جو انہوں نے اپنی عید کے لئے ذبح کیا ہے وہ حلال نہیں ہے، چنانچہ : اہل کتاب کی طرف سے عید کےدن ذبح کیے جانے والے جانور کے علاوہ انکے [نباتاتی] کھانے یعنی پھل فروٹ دال سبزی وغیرہ خرید کر یا ان سے تحفۃً لیکر کھائے جا سکتے ہیں، جبکہ مجوسیوں کے ذبیحہ کا حکم معلوم ہے کہ وہ سب کے ہاں حرام ہے-

خلاصہ یہ ہوا کہ غیر مسلموں سے تحفہ قبول کر سکتے ہیں، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں :

تحفہ (اگر جانور کے گوشت کی صورت میں ہے اور وہ جانور شرعی اصولوں کی روشنی میں ذبح کیا گیا ہے) تو شرط یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عید کیلئے ذبح نہ کیا ہو-

اور اس تحفے کو انکی عید کے دن کی مخصوص رسومات میں استعمال نہ کیا جاتا ہو، مثلا : موم بتیاں، انڈے، اور درخت کی ٹہنیاں وغیرہ۔
تحفہ قبول کرتے وقت آپ اپنی اولاد کو عقیدہ ولاء اور براء کے بارے میں لازمی وضاحت سے بتلائیں، تاکہ ان کے دلوں میں عید یا تحفہ دینے والے کی محبت گھر نہ کرجائے۔

تحفہ قبول کرنے کا مقصد اسلام کی دعوت اور اسلام کیلئے اسکا دل نرم کرنا ہو، محبت اور پیار مقصود نہ ہو۔

اور اگر تحفہ ایسی چیز پر مشتمل ہو کہ اسے قبول کرنا جائز نہ ہو تو تحفہ قبول نہ کرتے وقت انہیں اسکی وجہ بھی بتلا دی جائے، اس کے لئے مثلاً کہا جا سکتا ہے کہ : "ہم آپ کا تحفہ اس لئے قبول نہیں کر رہے کہ یہ جانور آپکی عید کے لیے ذبح کیا گیا ہے، اور ہمارے لئے یہ کھانا جائز نہیں ہے-” یا یہ کہے کہ : "اس تحفے کو وہی قبول کر سکتا ہے جو آپکے ساتھ آپکی عید میں شریک ہو، اور ہم آپکی عید نہیں مناتے، کیونکہ ہمارے دین میں یہ جائز نہیں ہے، اور آپکی عید میں ایسے نظریات پائے جاتے ہیں جو ہمارے ہاں درست نہیں ہیں-” یا اسی طرح کے ایسے جواب دیے جائیں جو انہیں اسلام کا پیغام سمجھنے کا سبب بنیں، اور انکے کفریہ نظریات کے خطرات سے آگاہ کریں۔

فائدہ : ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے دین پر فخر کرے، دینی احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے باعزت بنے، کسی سے شرم کھاتے ہوئے یا ہچکچاتے ہوئے یا ڈرتے ہوئے ان احکامات کی تعمیل سے دست بردار نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالی سے شرم کھانے اور ڈرنے کا حق زیادہ ہے-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading