شیخ ابو بکر کی شخصیت کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا,ان کی شخصیت کیرالا میں تعلیم کو فروغ دینے میں بے نظیر ہے،عربی اور ملیالم کے انقلابی خطیب ہیں، درس نظامیہ کے بھی جو کیرالا میں رایج ہے، بہترین مدرس ہیں، ان کا خاص فن حدیث پاک ہے، ایک بین الاقوامی خطیب وداعی کی حیثیت سے مختلف عرب ملکوں میں متعارف ومسلم ہیں. وہ کیرالاکے علاقے کے بے تاج بادشاہ ہیں، وہ جب چاہتے ہیں لاکھوں کا مجمع چٹکی بجا کر جمع کرلیتے ہیں، کیرالا کا بچہ بچہ ان کے نام پر جان دینے کو تیار نظر آتا ہے، ان کے موجودہ اور سابق طلبہ کی ہی اتنی بڑی تعداد ہے کہ جب چاہیں بڑے سے بڑے اسٹیڈیم کو بھر سکتے ہیں مگر شمالی ہند میں اب تک ان کا جادو چلتا نظر نہیں آرہاہے. کیونکہ ان کی بھی کچھ خاص کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے شمالی ہند کے چالباز اور شاطر مولوی ان کو فٹبال کی طرح سے کک مارتے رہتے ہیں اور وہ بڑی خوش دلی سے ان کی ضرب پر ادھر سے ادھر لڑھکتے اورڈھلکتے بھی رہتے ہیں اور ان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا، ایماندار مولویوں کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتے،نہ ان پراعتماد ہی کرتے ہیں،اس لئے تین دہائیاں گزرنے جانے کے باوجود اب تک شمالی ہندوستان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں بن سکی حالانکہ ابتداء1990کی دہائی میں شمالی ہندوستان کے علمااور عوام اہل سنت بڑی تیزی کے ساتھ ان کی طرف لپکے تھے، انہیں لگ رہا تھا کہ شاید شیخ ابوبکر ملیباری کی شکل میں شمالی ہندوستان کے سیدھے سادھے مسلمانوں کو کوئی مسیحا مل گیا ہے جو انہیں ذہنی اور فکری پستیوں سے نکال کر کے اقبال مندیوں اور فیروزبختیوں کے ساتویں آسمان پر پہنچا دے گا مگر پچھلے 30 سالوں نے ثابت کردیا کہ ان کی پہنچ صرف کیرالا تک ہے، کیرالا کے باہر ان کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ ہی ان کے اندر مردم شناسی کا کوئی ملکہ ہے اور نہ ہی وہ مخلص اور مفاد پرست مولویوں کے درمیان فرق کرنے کی تمیز رکھتے ہیں. آپ چاہیں تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ شیخ ابو بکر خود بھی ایک کھلاڑی مولوی ہیں اور وہ شمالی ہندوستان کے مولویوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر کے سنی سرمایہ داروں کے جیبوں پر گولی چلانا چاہتے ہیں مگر وہ اپنے اس مقصد میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے.یہ بیان انھوں نے بزبان خود ایک بار میرے سامنے دیاتھا اور کہاتھا کہ ہمارا مقصد شمالی ہندوستان یں آنے کا یہ ہے کہ اگر عرب ممالک کا چندہ بند ہوجائےتو شمالی ہند کے سرمایہ داروں کے چندے سے جامعہ مرکزالثقافۃ السنیہ چلتا رہے.
اور دوسری بات یہ ہے کہ شیخ ابوبکر صاحب مسلک کے معاملے میں ہمیشہ حقیقی صلح کلی واقع ہوئے ہیں، ہندوستان سے لے کر کے عرب ممالک تک خاص کر سعودی عرب اورعرب امارات کی مرغزار وادیوں تک ہر مسلک اور عقیدہ کے لوگوں کے ساتھ ان کااٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، میل جول برابر بلا نکیرجاری رہا ہے، ان کا مسلک، مسلک ” جمع التبرعات المالیہ لجامعۃ مرکزالثقافۃ السنیہ” ہے جو کسی بھی مہتمم کی سب سے بڑی مجبوری ہوتی ہے،اسی طرح دنیا جانتی ہے اور میں بھی براہ راست جانتا ہوں کہ چیخ صاحب بلالحاظ مسلک وعقیدہ ہرعرب سرمایہ دار کو بلاتے ہیں یا ان کے آنے پر ان کا شایان شان استقبال کرتے ہیں، اسکاؤٹ کے نوعمر طلبہ مخصوص یونیفارم پہن کر دف بجاکر اور کمر ہلاکر ان کا جو سلامی دیتے ہیں، سارے اساتذہ اور انتظامیہ ان کو فل پروٹوکول دیتے ہیں، اور تعظیم وتوقیر کے سارے ممکنہ مراسم بجالاتے ہیں کہیں سے کوئی کمی نہیں کرتے. عام سرمایہ دار عربوں کے علاوہ تعلیم یافتہ وہابی عربوں کو بھی اسی طریقے سے ٹریٹ کرتے ہیں، گو یا کہیں سے تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے.
اگر بریلوی مسلک کے اندر نافذ سخت گیر پالیسی کی بات کریں گے تو شیخ ابو بکر کے لیے سعودی عرب اور عرب امارات میں قدم جما نا مشکل ہوجائے گا کیونکہ وہاں کے شیخوں کی اکثریت بہرحال وہابی مسلک سے تعلق رکھتی ہے اور بفرض محال اگر وہابی مسلک سے نہ بھی تعلق رکھتی ہو تو بھی وہاں کے علما کی اکثریت، ہندوستانی علما کےجدید مسلک اعلی حضرت کی بیشتر دفعات کو ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کرتی، جن میں خاص کر معمولی معمولی باتوں پر تکفیر تفسیق وتضلیل، تذلیل وتحمیق اور دائرہ اسلام سے اخراج تک شامل ہے.
چنانچہ اب یہ بات تقریبا ہرحلقے میں اٹھنے لگی ہے کہ ” مسلک اعلی حضرت” کی اصطلاح صرف ہندوستان کے ایک معروف شہر تک محدود ہے، اس کے باہر اس کا کوئی وجود نہیں ہے، اس لئے شدت کے ساتھ اب یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے کہ مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح کو کالعدم قرار دیا جائے اور پوری دنیا کے مسلمانوں سے رابطہ کرنے کے لئے اور ان تک اہل سنت و جماعت کے عقائد اور افکار کو پہنچانے کے لئے اعتدال اور توازن کے مسلک پر کاربند ہواجائے جیسا کہ معروف اسکالر علامہ ثاقب شامی صاحب نے اپنی کتاب مسلک اعتدال میں ذکر کیا ہے. چنانچہ فیس بک اور واٹس ایپ پر پچھلے ایک ہفتے سے مسلسل شیخ ابوبکر احمد مسلیار ملیباری جنرل سیکریٹری جمیعت علمائے اہل سنت کیرالا کے خلاف میسیج چل رہے ہیں، خاص طور پر عرب خطیب العتیبی جو انبار عراق کے علاقے کا ایک شیعہ نوازعالم ہیں اور جس کے اوپر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کے الزامات بھی ہیں اور عراق کے صوبہ الانبار کے علماء اہل سنت نے اس کے خلاف فتوی بھی دے رکھا ہے، شیخ ابو بکر اس کے ساتھ اسٹیج شیئر کر چکے ہیں، اسی طرح عموما عرب علما کے ساتھ بلاتمیز مسلک و ملت سب کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری سمجھتے ہیں.
افسوس صد افسوس آج بریلوی جماعت کے کچھ مفاد پرست علما سخت تضادات کا شکار ہیں، نہ کوئی اصول ہے، نہ کوئی ضابطہ ہے، جو جہاں پہ ہے وہ وہیں پہ من مانی کر رہا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق مسلک اور مذہب کی تشریح کر رہا ہے اور دوسروں کو بھی اسی تشریح کا قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جو اس کی من مانی تشریحات اور خودساختہ مسلک کے حدود وقیود کو نہیں مانتا ہے، اس کے اوپر مسلک سےبغاوت کا کیس درج کردیا جاتا ہے اور اس کو عوام اہل سنت کے درمیان ایسا بے عزت کیا جاتا ہے کہ پھر وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ جاتا ہے. ظاہرسی بات ہے کہ رام لیلا میدان میں ہونے والی ورلڈ پیس کانفرنس بظاہر اہل سنت و جماعت کے اسی طبقے کی نمائندگی کر رہی تھی جو اپنے آپ کو بریلوی کہتا ہے،اور اپنے آپ کو کٹر مسلک اعلی حضرت کا پابند کہتا ہے.
مولانا اشفاق القادری صاحب کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ خلیفہ تاج الشریعہ بھی ہیں، مولانا اشفاق صاحب ایک زمانے تک تاج الشریعہ کی ناک کے بال مانے جاتے رہے ہیں، کیمرے کاسامنا کرنے میں آپ کا جواب نہیں، اس میں نراور مادہ کا بھی فرق نہیں کرتے.اندھ بھکت طبقے کو یہ ساری کارگزاریاں یہاں نظر نہیں آتیں، اور صوفی کانفرنس میں معروف اسکالر اور بورڈ کے قومی ترجمان سالک مصباحی کے بغل میں دوعدد انگریزی اخبارات کی رپورٹرز بیٹھی کیا نظر آگئیں کہ ان کی عید ہوگئی, پورے تین سالوں سے یہ اندھ بھکت ان تصویروں کو بار بار شیر کرتے ہیں اور جب جواب میں ان کے کرتوتوں سے پردہ ہٹایاجاتا ہے،تو عالم دین ہونے کی دہائی دینے لگتے ہیں.
اس پروگرام میں طے تھا کہ پروگرام کے اختتام پر میڈیا سے ملاقات کی جائےگی، درمیان پروگرام کوئ بھی میڈیا کے روبرو نہیں ہوگا، مگر علامہ اشفاق صاحب کہاں رکنے والے تھے، تقریر ختم ہوتے ہی کیمرے کے سامنے پہنچ گئے.
اور منان رضا خاں صاحب جن کو ” شیخ کبیر” کا لقب دیا گیا ہے ان کا کہنا ہی کیاسبحان اللہ دہلی میں آپ کی جو خدمات ہیں وہ جگ ظاہر ہیں،آپ علامہ اختر رضا خان ازہری علیہ الرحمہ کے برخلاف دعوت اسلامی کے محبوب نظر ہیں، اس کے تمام پروگراموں میں شرکت کرتے رہتے ہیں، ویڈیو مووی ہر طرف جم کے بنواتے ہیں،ذرہ برابر کسی طرح کی کوئی کراہت نہیں ہوتی ہے جبکہ مولانا اختر رضاخاں قادری ازہری علیہ الرحمہ صاحب زندگی بھر ویڈیو سے پرہیز کرتے رہے اور بنوانے والے کی امامت اور خلافت بھی چھینتے رہے اور اسی بنیاد پر دوسروں کو صلح کلیت اور بدعقیدگی و گمراہی تک کا خطابت بھی عطا فرماتے رہے، دعوت اسلامی اور سنی دعوت اسلامی اسلامی کو مسلک اعلی حضرت کا مبلغ نہ ہونے کا تمغہ بھی تقسیم کرتے رہے مگر انہیں کے برادر معظم شیخ کبیر (آج سے) علامہ منان رضا خان صاحب، دعوت اسلامی کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے ہیں، ان کا یہ عمل ازہری صاحب کی زندگی میں بھی جاری تھا اور آج بھی جاری ہے، مگر نہ اس وقت کوئی فتوی ان کے خلاف ایا تھا اور نہ اب آئیندہ آئے گا بلکہ مرکزی دارالافتا سے تو اب یہ بیان جاری ہوگیا ہے کہ ازہری صاحب نے زندگی میں دعوت اسلامی اور سنی دعوت اسلامی ان دونوں تنظیموں کے خلاف کوئی فتوی دیا ہی نہیں. ہائے رے بوالعجبی. 25سال سنی مسلمانوں کے اسی تنازعہ میں برباد کرکے اب کہتے ہیں کچھ ہوا ہی نہیں. اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا.
میں کانفرنس کے بانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کل تک تو اپنے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی صوفی کانفرنس میں شرکت کی بنیاد پر صوفی کانفرنس کو صلح کلیوں کا، مسلک کے باغیوں کا، اعلی حضرت کے دشمنوں کا،اختر رضا خان کے گستاخوں اور غداروں کا بلکہ ملت کے گمراہوں اور مرتدوں کی کانفرنس کہا تھا اورشیعیت سے لے کر کے رافضیت تک، مودی کے دلال سے لے کر آرایس ایس کے ایجنٹ تک وہ کونسا الزام تھا جو اس کے اوپر لگایا نہیں،لیکن آج جب آپ کے پروگرام میں شیخ ابو بکر شرکت کر رہے ہیں جن کے عالمی سطح کے معروف وہابیوں سے اور نجدی حکومتوں سے براہ راست رابطے ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں مثل الشیخ العتیبی کے گستاخی کرنے والوں کو گلے لگاتے ہیں، توآج ان کی قیادت اور ان کی سرپرستی میں، ان کے مالی تعاون اور فائنینس پر جلسہ کرنے میں آپ حضرات کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی. نہ ہی آپ کو مسلک کا کوئی درد ستایا؟کیوں؟ ، یہاں آپ کو مولانا احمد رضا خاں قادری کی یاد نہیں آتی نہ مولانا اختر رضا خاں ازہری علیہ الرحمہ کا موقف و مسلک خطرے میں پڑتا ہے اور نہ مفتی اعظم کا عقیدہ اور عمل زد میں آتا ہے، سب کچھ نارمل نظر آتا ہے، اور آپ بڑی ڈھٹائی سے اپنے آپ کو مسلک اعلی حضرت کا ترجمان بھی کہتے نظر آتے ہیں اور اپنے پروگرام کو مسلک وملت کی ضرورت بھی بتاتے ہیں، یہاں پرآپ کو نو ایجادمسلک خطرے میں نظر نہیں آتا اور من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے. کسی نے سچ کہا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے. گویااپنے اپنے پیروں اور مذہبی پیشواؤں کی محبت اور اپنے مخالفین اور نظریاتی حریفوں کی عداوت یا دولت وثروت کی حرص وطمع میں میں سب کچھ جائز کر لیاگیا ہے. جو چیزیں آپ کے مسلک میں آپ کے دشمنوں کے لئے جائز نہیں ہوتیں، وہی چیزیں آپ کے لئےجائز ہو جایا کرتی ہیں. کیا یہی وہ دین ہے جس کی آپ دعوت دیتے ہیں؟ کیا یہی وہ مسلک ہے جس کی قربان گاہ پر سینکڑوں ہزاروں علما و مفتیان کرام کے ایمان اور عقیدہ کو قربان کرتے ہیں؟
افسوس صد افسوس صوفی کانفرنس کو منعقد ہوئے کل تین سال کا عرصہ گزرا ہے تین سال کے عرصے میں بریلوی جماعت کی کیسی درگت بنی ہے، وہ سب کے سامنے عیاں ہے جن جن بنیادوں پر صوفی کانفرنس ک�� مخالفت کی گئی اس کے مخالفین آج ان تمام بنیادوں پر زد میں پڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں. بھارت ماتا کی جے کے نعرے کا الزام لگایا گیا اور آج بریلوی مکتب فکر کے مفتیان کرام دھڑلے سے تحقیق فرما رہے ہیں کہ جن گن من پڑھنا جائز ہے، یہ قومی ترانہ ہے، اس کی تعظیم وتکریم ہونا چاہیے. جب کہ ماضی کے تمام شدت پسند بریلوی مفتیان کرام نے اسے ناجائز وحرام لکھا ہے. بھارت ماتا کی جے کے مقابلے میں، جن گن من میں عقیدہ وعمل کے لحاظ سےزیادہ کریہ وشدید کلمات ہیں.تو جب شارح بخاری نے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانے کو کفر صریح لکھ دیا تو جن گن من بدرجہ اولی کفر صریح وقبیح ہونا چاہیے تھا مگر نہیں، چونکہ مسلک کا لیبل موجود ہے اس لیے جو کچھ بھی کہا جائےگا من وعن مان لیا جائےگا،ہماری مکھی حلق سے نیچے نہیں اترتی اپنا مگر مچھ بھی ہضم ہوجاتا ہے. 2016 میں صوفی کانفرنس میں عام مسلمانوں کا بھی نعرہ لگانا ثابت نہیں چہ جائے کہ علما ومشائخمگر تین سال سے بلا دلیل شرعی پروپیگنڈا جاری ہے، صوفی کانفرنس کیا منعقد ہوئی پوری ملت خطرے میں پڑ گئی، جس کی دہائی آج تک مسلک کے ٹھیکیدار دے رہے ہیں.
اور طرفہ تماشہ یہ کہ 2017میں یعنی صرف ایک سال کے بعد نہ صرف بریلی سے شہزادہ ازہری علیہ الرحمہ کے شہزادے نے آزادی کا جشن دھوم دھام سے منانے کا فتوی جاری کیا بلکہ مولانا مجاہد حسین رضوی حبیبی صاحب استاذ دارالعلوم غریب نواز آلہ آباد جوکٹر مسلکی مفتی ہیں انھوں نے ” جن گن من ادھینائیک جیے ہے” کے پڑھنے کو نہ صرف جائز قرار دےدیا بلکہ اس میں کسی طرح کی کراہت ہونے سے بھی انکار کردیا. اس مقام پرکسی مفتی کو اہل سنت و جماعت کا مسلک خطرے میں نظر میں نہیں آیااور نہ کسی کو ملت سے غداری اور نمک حرامی کی کوئی وجہ سمجھ میں آئی. بریلوی مولویوں کی اس دوہری پالیسی اور ان کے دورنگی طرز عمل نے عوام اہل سنت کو سنی صوفی مسلمانوں، محبین اہل بیت،معتدل طبقہ اہل سنت، مولای عاشقوں،خانقاہوں کے سجادہ نشینوں، بارگاہوں کے خدام، اجمیر شریف اور محبوب الہی کے ذمہ داران کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب اور علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی صاحب کی بریلوی طبقے کی طرف سے جو مخالفت کی گئی اور تاحال جو کچھ مخالفت کا ماحول قائم ہے اور صوفی کانفرنس کے خلاف جس طریقے سے مہم چلائی گئی ان سب کا بنیادی سبب ذاتی اور گروہی مفاد تھا، سب کے سامنے پیٹ کا سوال تھا اور سیٹھوں کی جیب کاٹنے کا معاملہ تھا، سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اہل سنت و جماعت کے سنی سیٹھ کس کی جیب میں بند رہیں گے. اور ظاہر ہے کہ پیٹ سب سے بڑا مسلک ہے، اس سے بڑا کوئی مسلک نہیں.پیٹ کے بندوں کو صاف خطرہ نظر آ رہا تھا کہ عوام اہل سنت کی دہائیوں کے بعد جس تیزی کے ساتھ آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کے رجوع ہو رہے تھے اور حضرت علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی بھی کی طرف ان کا میلان عام ہو رہا تھا اس سے لگ رہا تھا کہ ہمارے سارے بندھوا مزدور اور نوٹ بینک کہیں ہماری طرف سے کھسک نہ جائیں اور ہم تہی دست ہو جائیں اس لئے پورا زور لگایا گیا کہ ایک بھی مزدور کو پالے سے باہر نہ جانے دیا جائے، سب کو بند کر کے رکھا جائے اور یہ کام مسلک کے کوڑے سے بڑی آسانی کے ساتھ ہوسکتا تھا سو کیا گیا، اب سارا کھیل پبلک کو سمجھ میں آ گیا ہے، اس لیے چھ مہینے کی محنت اکارت گئی اور 5 ہزار کرسیاں بھی نہ بھرسکیں دیکھو اسے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو.
فقط خادم علم وعلما
ابوحنظلہ نشتر مصباحی،
نظام آباد، آندھرا پردیش