نئی دہلی: اتر پردیش میں سیاسی اور سماجی کارکنان کے خلاف استعمال کیے جانے والے سخت قوانین کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے جمعرات کو یہاں اتر پردیش بھون کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا۔
UPDATE:- 20 Feb 2020 1:20 PM
People have been detained from outside UP Bhawan and taken to Mandir Marg Police station.
Lawyers InTouch with those detained and following up.— Jamia Coordination Committee (@Jamia_JCC) February 20, 2020
جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے اتر پردیش میں غیر قانونی سرگرمیوں کی (روک تھام) قانون (یو اے پی اے)، قومی سلامتی قانون (این ایس اے)، عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) اور ملک سے غداری جیسے قوانین کا سیاسی اور سماجی کارکنان کے خلاف استعمال کیے جانے کے خلاف یوپی بھون کا گھیراؤ کرنے کی کال دی گئی تھی۔ اتر پردیش بھون کے باہر مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو پولیس حراست میں لے کر مندر مارگ تھانے لے کر گئی ہے۔
Delhi Police foiled UP Bhawan chalo march at UP Bhawan New Delhi India on February 20/2020. Police detained several students while heading towards UP Bhawan Delhi. pic.twitter.com/zWORg9DfFV
— Peerzada waseem(پیرزادہ وسیم) (@waseemjourno) February 20, 2020
مظاہرین طلبہ نے ڈاکٹر کفیل کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ غور طلب ہے کہ ڈاکٹر کفیل کو 12 دسمبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کے الزام میں ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے ڈاکٹر کفیل کو ضمانت منظور کر لی گئی تھی لیکن اس کے بعد انہیں این ایس اے کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔
Inside mandir marg police station
Posted by JSF-Jamia Students Forum on Thursday, February 20, 2020
مظاہرے میں شامل ایک طالب علم الامین نے بتایا کہ پولیس نے 30 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جمعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے بھی اس حوالہ سے ٹوئٹ کیا گیا ہے۔ ٹوئٹ میں لکھا ہے، ’’یو پی بھون کے باہر حراست میں لئے گئے لوگوں کو مندر مارگ تھانہ لے جایا گیا ہے۔ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے وکلاء ان سے رابطہ میں ہیں اور ضروری کارروائی کر رہے ہیں۔‘‘ جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کے ٹوئٹ میں کئی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔



یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو