دہلی میں ٹرانسپورٹ ہڑتال سے مسافرین پریشان

جرمانوں کی رقم میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف احتجاج، خانگی بسیں ، آٹوز اور ٹیکسیاں سڑکو ں سے غائب
نئی دہلی ۔ 19ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مسافروں کو آج سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، جب کہ وہ اپنی منزلوں کا سفر کررہے تھے ۔ کئی خانگی بسیں ، ٹیکسیاں اور آٹو رکشہ سڑکوں سے غائب رہے ۔ کیونکہ ہڑتال کی اپیل یو ایف ٹی اے نے کی تھی اور ترمیم شدہ نئے موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت جرمانوں کی رقم میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف احتجاج کیا جارہا تھا ۔ کئی اسکول قومی دارالحکومت میں ہڑتال کی وجہ سے بند رہے ۔ بعض والدین نے اپنے بچوں کو اسکول پہنچانے اور وہاں سے واپس لے جانے کے اپنے طور پر انتظامات کئے تھے ۔ دہلی میٹرو میں دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے انتظامات کے وہ ہڑتال نہ کرنے والی بسیں چلائے گا ، غیر موثر ثابت ہوا ۔ صرف 50 ٹرانسپورٹ اسوسی ایشنس اور یونینس نے ہڑتال میں حصہ لیا ۔ یو ایف ٹی اے نے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک پر ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی رقم میں بھاری اضافہ جو نئے موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے واپس لیا جائے ۔ دہلی میں 90ہزار سے زیادہ آٹو رکشہ چلتے ہیں ۔ بچوں کے والدین نے اطلاع دی کہ بعض آٹو ڈرائیورس پر جو ہڑتال میںشرکت نہیں کررہے تھے حملہ کئے گئے ۔ اطلاعات ملی ہیں کہ سونی نے ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ ہڑتال پُرامن تھی اور کثیر تعداد میں آٹو ڈرائیورس اس میں شرکت کیلئے آمادہ تھے ۔ ہلکی موٹر وہیکل اسوسی ایشن بشمول مختلف آخری میل کو مربوط کرنے والی اسوسی ایشن کی موٹر گاڑیاں جن کا نام ’ڈرامین سیوا ‘‘ ہے کہا کہ وہ ہڑتال میں شریک نہیں ہیں ۔ سڑکیں نسبتاً کم ٹریفک کا مشاہدہ کررہی تھیں کیونکہ خانگی آپریٹرس کے آٹو رکشہ ، ٹیکسیاں اور بسیں سڑکوں سے غائب تھیں ۔ مسافرین کو اس کے باوجود مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ٹیکسی اور آٹو کی خدمات حاصل کرنے میں مشکل محسوس کررہے تھے ۔ مسافرین کو کئی دیگر مسائل کا بھی سامنا تھا ۔ خاص طور پر ریلوے اسٹیشنس اور بین ریاستی بس ڈپو ویران تھے ۔ بعض افراد نے شکایت کی کہ انہیں فطری ضروریات کی تکمیل کا موقع بھی نہیں ملا ۔ جو قیمت وصول کی جارہی تھی اُس کے زیادہ ہونے کی بھی شکایات ملی ہیں ۔

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading