نئی دہلی: دہلی میں ہونے والے تشدد پر فوری بحث نہ کرانے کے معاملہ پر اپوزیشن نے بدھ کے روز لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس سے ایوان میں وقفہ سوالات نہیں ہو سکا اور کارروائی کو پہلے دوپہر 12 بجے تک اور بعد میں دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دینا پڑی۔ حزب اقتدار کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملہ پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کو تیار ہے لیکن یہ بحث ہولی کے بعد ہوگی۔ ادھر راجیہ سبھا میں بھی دہلی فسادات پر زبردست ہنگامہ ہوا، جس کے بعد کارروائی کو دن بھر کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔
لوک سبھا میں صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس، ترنمول کانگریس، دراوڑ منتر كشگم سمیت تقریباً تمام اپوزیشن پارٹیوں کے رکن کھڑے ہو کر دہلی تشدد پر بحث کا مطالبہ کرنے لگے۔ وہ ’’ہمیں انصاف چاہیے‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور ہاتھوں میں نعرے لکھی تختیاں لیے ہوئے تھے۔
Rajya Sabha has been adjourned till 11am tomorrow following uproar by Opposition MPs over Delhi violence. pic.twitter.com/4LNzCI424j
— ANI (@ANI) March 4, 2020
خاص بات یہ رہی کہ اسپیکر اوم برلا آج صبح ایوان میں نہیں آئے اور کارروائی کا آغاز پریزائڈنگ اسپیکر کریٹ سولنکی نے کرایا۔ سولنکی نے ہنگامہ کر رہے ارکان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔
پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ حکومت نے کل ایوان میں واضح کر دیا تھا کہ وہ ہولی کے بعد 11 مارچ کو دہلی تشدد کے واقعات پر بحث کے لئے تیار ہیں۔ لوک سبھا میں 11 مارچ کو اور راجیہ سبھا میں 12 مارچ کو بحث کے لئے ہم تیار ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے کارروائی چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں کافی اہم بل پر بحث ہونی ہے۔ جوشی نے الزام لگایا کہ اپوزیشن بحث نہیں ہونے دینا چاہتا، اس کا مقصد صرف کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
ہنگامے کے درمیان ہی سولنکی نے وقفہ سوالات چلانے کی کوشش کی۔ دو سوال بھی ایوان میں پوچھے گئے۔ لیکن بار بار اپیل کے باوجود جب اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ فرو نہیں ہوا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لئے اور پھر دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔
ادھر راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے دہلی کے فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں بحث ہولی کے بعد کرائے جانے کی تجویز کو نامنظور کر دیا اور ہنگامہ کیا۔ اس کی وجہ سے ایوان بالا کی کارروائی شروع ہونے صرف 10 منٹ کے بعد پورے دن کے لئے ملتوی کردی گئی۔
چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے ایوان کی میز پر ضروری دستاویزات رکھنے کے بعد میں اعلان کیا کہ انہیں ضابطہ 267 کے تحت کچھ نوٹس موصول ہوئے ہیں جن کو انہوں نے قبول نہیں کیا لیکن اس مسئلے کی سنجیدگی کے پیش نظر دہلی میں تشدد کے موضوع پر ایوان میں بحث ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور فیصلہ کریں گے کہ کس ضابطہ کے تحت اس معاملے پر بحث ہونی چاہیے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو