ابو سعد چارولیہ
دو ہزار انیس لوک سبھا الیکشن کیا نتائج لے کر آیا اس پر اور اس کے پس منظر و پیش منظر پر دسیوں مضامین لکھے جاچکے، فرقہ پرست پارٹیوں کی کھلی جیت اور نام نہاد سیکولر پارٹیز کی ذلت آمیز شکست نے کڑوروں ہندوستانیوں کے دل میں مایوسی و تشویش کی لہر دوڑادی ہے مگر تسلی کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم ایم پی کی تعداد کے اعتبار سے گذشتہ الیکشن کی بنسبت یہ الیکشن قدرے ٹھیک رہا اگرچہ مسلم آبادی کے تناسب سے یہ تعداد نصف بھی نہیں ہے تاہم دو ہزار چودہ کے مقابلے میں غنیمت ہے کہ تقریباً کچھ جگہوں کو چھوڑ کر ہر جگہ مسلمانوں نے دانشمندی سے کام لیا اور خاموشی سے مسلم امیدوار کو اجتماعی ووٹ دے کر ان کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور اپنے اپنے علاقے سے اٹھا کر انہیں ملک کے ایوان میں پہنچایا تقریباً پچیس مسلمان ممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں
اس پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اور ان چنیدہ افراد کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہوئے یہ عرض ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں اور پارٹیوں سے آئے ہوئے یہ پچیس ایم پیز ایوان میں مسلم و اقلیت کی نمائندگی کریں پارٹی گائیڈ لائنز چاہے کچھ ہو مگر ملی مسائل پر یہ سب یک جٹ ہوکر آواز بلند کریں اس وقت ساری سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کی محتاج ہیں اگر وہ ہمیں اپنے ملی مسائل اٹھانے کی اجازت نہیں دیتیں اور ہماری قیادت اور اس کی آواز کو دبانا چاہتی ہیں تو ہمیں ایسی پارٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں ملت کے مسائل پر پارٹی کا مفاد مقدم نہ ہو اور باہمی اتحاد کا ایسا مظاہرہ کرنا چاہیے جیسا اسّی کی دہائی میں پچاس کے قریب منتخب مسلم ایم پیز نے کیا تھا اور اس وقت کی جابر سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا
یہ دھوکا یا یہ ناامیدی نہ ہو کہ وہ تو پچاس یا باون تھے اور ہم صرف پچیس ہیں اگر اتحاد و اتفاق ہوتو پچیس بھی اچھا خاصا کام کرسکتے ہیں بصورت دیگر پچاس بھی ناکافی ہیں
اس کی تازہ و امید افزا مثال میں مہاراشٹر اسمبلی اور اس کے منتخب مسلمز ایم ایل اے کو پیش کیا جاسکتا ہے چونکہ راقم ریاست مہاراشٹر سے تعلق رکھتا ہے اور وہاں کی سیاسی اتھل پتھل پر نظر رہتی ہے اس لیے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مہاراشٹر اسمبلی کے مسلم ممبران بھرپور طریقے سے پورے اتفاق کے ساتھ ملی مسائل اور مسلم ایشوز پر بولتے ہیں چاہے وہ وقف بورڈ کا مسئلہ ہو یا حج کمیٹی کی بات ہو چاہے ریزرویشن کا مدعا ہو یا اقلیتی فنڈ کا ہر موقع سے یہ گیارہ دیوانے ساتھ نظر آتے ہیں مجھے یاد ہے کہ پچھلی بقرہ عید کے موقع سے بجرنگی غنڈوں کے جانوروں کی گاڑیاں روکنے اور ان سے پیسہ اینٹھنے کے مسئلے کو لے کر ان کا متحدہ وفد وزیر اعلی فرنویس سے ملا تھا أور مہاراشٹر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری طور پر سرکیولر جاری ہوا تھا کہ قربانی کے جانوروں کی گاڑیاں نہ روکی جائیں یہ اور بات ہے کہ سنگھ کے دباؤ میں آکر سرکار نے عید سے ایک دن پہلے یہ سرکیولر واپس لے لیا تھا
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسئلے پر یہ گیارہ ایم ایل اے شانہ بہ شانہ نظر آتے ہیں امین پٹیل نسیم صدیقی ابو عاصم اعظمی آصف شیخ امتیاز جلیل و وارث پٹھان وغیرہ جاں بازوں کی پوری ایک ٹیم ہے جو پوری قوت کے ساتھ ملی مسائل پر آواز اٹھاتی ہے اور یہ حضرات اسمبلی کے احاطے میں متحدہ پریس کانفرنس کرتے ہیں حالانکہ یہ سب اپنے اپنے علاقوں میں ایک دوسرے کے صرف دشمن نہیں کٹر دشمن ہیں اور الیکشن کے دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں عروج پر ہوتی ہیں اپنے علاقوں میں دوسرے کا گھسنا گوارا نہیں کرتے مگر اسمبلی کے پلیٹ فارم پر مسلم ایشوز سب مل کر اٹھاتے ہیں
یہی مثال و کردار ملک کے اس وقت کے چنیدہ ایم پیز کو بھی پیش کرنا چاہیے۔ان کا مل کر موب لنچنگ کے خلاف آواز اٹھانا ان کا اپنے ایمان و اسلام پر جمے رہنا پرسنل لا پر سخت موقف اختیار کرنا مظلوموں کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہنا دلت ایشوز پر آواز بلند کرنا ملک کے مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کو حوصلہ بخشتا ہے ان کا ایمان و ایقان سے بھرپور ایک جملہ مظلوم مسلمانوں کی یاس و ناامیدی کو آس سے بدل دیتا ہے اس لیے ہماری درخواست ہے کہ ایوان پارلیمنٹ کی حد تک ملی و اقلیتی امور میں آپ سب حضرات متحد رہ کر آواز اٹھائیں اور ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کے بجائے ہاتھ پکڑیں اور قدم بہ قدم ساتھ چلیں ملی مسائل پر آواز اٹھاتے ہوئے جذباتی باتوں کے ساتھ ساتھ منطقی و لوجیکلی انداز میں بھی اپنی بات پیش کریں صرف جذبات غیر مسلموں کو متحد ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں اس لیے جوش کے ساتھ ہوش سے کام لیں اپنا اتحاد خفیہ رکھیں اپنے علاقوں میں چاہے تو ایک دوسرے کے خلاف جم کر الیکشن لڑیں لیکن پارلیمنٹ کے سیشن میں جڑے دلوں کے ساتھ بیٹھیں
مودی سرکار کا پہلا بجٹ اجلاس ہونے کو ہے آپ کی طرف ملک بھر کے مسلمانوں و اقلیتوں کی نگاہیں اٹھی ہوئی ہیں ایسا نہ ہو قوم اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کرے ہمیں پتہ ہے کہ پچیس لوگ مل کر کسی بل کو روک نہیں سکتے مگر اس چڑیا کا تو کردار ادا کرسکتے ہیں جو آتش نمرود کو بجھانے اپنی چونچ میں پانی لے کر آئی تھی اندھیرے ختم کرنا ضروری نہیں اپنے اپنے چراغ جلانا ضروری ہے سکوت توڑنا ضروری ہے خوف و ہراس کا ماحول ختم کرنا ضروری ہے اگر آپ یہ کرلیتے ہیں اس زخمی و شکست خوردہ قوم پر بڑا احسان ہوگا جسے تاریخ مدتوں یاد رکھیں گی اور اگر قوم و ملت کے ساتھ بددیانتی کی تو اگلی نسلیں آپ کو کبھی معاف نہیں کرسکیں گی خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔