نئی دہلی۔چوبیسویں عالمی فروغِ اردو ادب ایوارڈ، دوحہ قطر 2020′ جیوری کی میٹنگ نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس میں اردو کے ممتاز فکشن نگار و صحافی نورالحسنین کو یہ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا جو ڈیڑھ لاکھ روپے نقد، طلائی تمغہ اور سپاس نامہ پر مشتمل ہے۔ جیوری کے چیئرمین پدم بھوشن پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نورالحسنین کا شمار عہدحاضر کے گراں قدر افسانہ نگار، کالم نویس اور صحافیوں میں ہوتا ہے۔ انھیں بچپن سے ہی فکشن لکھنے کا شوق تھا۔ ان کی پہلی کہانی ‘انسانیت’ روزنامہ ہندوستان میں تب شائع ہوئی جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔ اس وقت سے اب تک انھوں نے بے شمار کہانیاں لکھی ہیں۔
نورالحسنین نے زیادہ تر معاشرتی، سیاسی سماجی افسانے لکھے ہیں۔ اب تک چار افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن میں ‘سمٹتے دائرے’ (1985)، ‘مور رقص اور تماشائی’ (1988)، ‘گڑھی میں اُترتی شام’ (1999) اور ‘فقط بیان تک’ (2012) شامل ہیں۔ اُنھوں نے تاریخی ،معاشرتی ناولیں لکھیں اور آج اُن کا شمار ایک اچھے ناول نگار کی حیثیت سے بھی ہو تا ہے۔ ان کے ناولوں میں ‘اہنکار’ (2005)، ‘ایوانوں کے خوابیدہ چراغ’ (2013)، ‘چاند ہم سے باتیں کرتا ہے’ (2015) اور ‘تلک الایام’ (2018) شامل ہیں۔ ‘نیا افسانہ : نئے نام’ (دو جلدوں میں) اور ‘اردو ناول : کل اور آج’ کے نام سے تنقیدی مضامین کے دو مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ ‘خوش بیانیاں’ (خاکے)، ‘گڈو میاں’، ‘چوتھا شہزادہ’ (بچوں کے لیے کہانیاں) بھی منظرعام پر آچکے ہیں۔ نورالحسنین کو مختلف انعامات و اعزازات سے نوازا جاچکا ہے جن میں مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی سے ان کی کتابوں پر پانچ بار ایوارڈ شامل ہے۔
اترپردیش اردو اکادمی سے تین بار ایوارڈ اور چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کی جانب سے فکشن کا ‘منظر کاظمی قومی ایوارڈ برائے 2017’ سے بھی نوازے جاچکے ہیں۔ اب تک 9 مختلف یونیورسٹیوں میں ان کے ناولوں اور افسانوں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کا کام بھی ہوچکا ہے۔مجلس فروغ اردو ادب، دوحہ قطر کا یہ پروقار ادبی ایوارڈ ہر سال ایک ہندستانی اور ایک پاکستانی ادیب کو دیا جاتا ہے۔ ہندستانی ایوارڈ یافتگان میں آل احمد سرور، قرۃ العین حیدر، جیلانی بانو، کالی داس گپتا رضا، جوگیندر پال، سریندر پرکاش، نثار احمد فاروقی، سیدہ جعفر، جاوید اختر، عبدالصمد، گلزار، رتن سنگھ، شموئل احمد، مشرف عالم ذوقی، نندکشور وکرم، سیدمحمد اشرف اور ف س اعجاز وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
پینل آف ججز کا اجلاس جیوری کے چیئرمین اور اردو کے ممتاز نقاد و دانشور پروفیسر گوپی چند نارنگ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اراکین جیوری میں پروفیسر شافع قدوائی، جناب شین کاف نظام اور جناب حقانی القاسمی شامل تھے جبکہ کوآرڈینیٹر کفایت دہلوی اور معاون محمد موسیٰ رضا بھی موجود تھے۔ ایوارڈ کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا۔ مجلس فروغ اردو ادب، دوحہ قطر کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے پیٹرنس کے سرپرست اعلیٰ اردو کے فعال خدمت گزار جناب محمد عتیق صاحب ہیں۔ یہ ایوارڈ بانیِ مجلس جناب مصیب الرحمن نے شروع کیا تھا تب سے اب تک 24 ادیبوں کو اس ایوارڈ سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔ یہ ایوارڈ ماہ اکتوبر 2020 کو دوحہ قطر میں منعقدہ تقریب میں سفراء کرام، عمائدین شہر، شعرا و ادبا اور سینکڑوں عاشقانِ اردو کی موجودگی میں پیش کیا جائے گا۔