داعش معاملہ: ملزم اللہ رکھا کی ضمانت عرضداشت مسترد

ممبئی:31 جنوری:(ورق تازہ نیوز) ممنوع تنظیم داعش کے توسط سے ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا مبینہ منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت گرفتار اللہ رکھا ابو بکر منصوری نامی ملزم کی ضمانت عرضداشت کو آج خصوصی این آئی اے عدالت نے یہ کہتے ہو ئے خارج کردیا کہ مجموعی طور پر اس کے خلاف ثبوت موجود ہیں لہذا اسے ضمانت پر رہا نہیں کیا جاسکتا ، حالانکہ ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے مقرر کردہ وکیل شریف شیخ نے ملزم کی ضمانت عرضداشت پر بحث کرتے ہو ئے خصوصی جج ڈی ای کوٹھلیکر کو بتایا تھاکہ اس معاملے میں حالانکہ این آئی اے اور اے ٹی ایس نے چارج شیٹ داخل کردی ہے لیکن چارج شیٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہیکہ ملزم کو صرف اور صرف شک اور دیگرملزم کے بیانات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا نیز قانون کی نظر میں ایسے ثبوتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ملزم کے خلاف انفرادی طور پر کوئی ثبوت تحقیقاتی دستہ عدالت میں پیش نہیں کرسکا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق خصوصی جج نے ضمانت عرضداشت مستر دکرتے ہو ئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملزم اللہ رکھا کے خلاف ویسے تو بالراست اور انفرادی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن اگر اس کا مقدمہ دیگر ملزم کے ساتھ منسلک کرکے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دونوں ملزمین نے ملکر کا سارش رچی تھی نیز دونوں ملزمین کے خیالات مجرمانہ ہیں ۔ ملزم اللہ رکھا کی ضمانت عرضداشت مسترد کیئے جانے کے بعد جمعیة علماءقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ ملزم کو ضمانت حاصل ہوگی لیکن ایسا ہوا نہیں ہوسکا لیکن وہ مایوس نہیں ہیں اور انہیں امید ہیکہ ہائی کورٹ سے ملزم کو ضمانت پر رہائی نصیب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ خصوصی جج نے خود اپنے فیصلہ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملزم کے خلاف انفرادی طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے جس کہ وجہ سے ملزم کو ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے امکانات ہیں اور اس کے لیئے جمعیة علماءکوشش کریگی نیز دفاعی وکلاءسے اس تعلق سے صلاح و مشورہ کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال تحقیقاتی دستوں نے ملزمین فیصل مرزا ور اللہ رکھا کو داعش کے ہم خیال اور ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading