دار العلوم غریب نواز ناندیڑمیں مقابلہ حدیث کامیاب انعقاد

ناندیڑ:12فروری (ورق تازہ نیوز)شہر ناندیڑ میں واقع اہل سنت وجماعت کی عظیم درسگاہ دار العلوم غریب نواز میں ہر ماہ کی طرح اس ماہ بھی ۶جمادی الاخریٰ بروز پیر طلبائے دار العلوم کے مابین ایک انعامی مقابلہ بنام” حفظ حدیث اربعین“ کا انعقاد عمل میں آیا ، جس میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کو ترغیبی اسنادو انعامات سے نوازا گیا۔اس موقع پر دار العلوم کے صدرالمدرسین مفتی منشاد احمد مصباحی نے طرق روایت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ راویان حدیث نے دو طرح سے حدیث کو روایت کیاہے (۱)روایت باللفظ (۲) روایت بالمعنی ۔اور یہ دونوں طریقے نہایت ہی احتیاط کے مقتضی ہیں ،لیکن روایت بالمعنی ہر شخص کو کرنے کی اجازت نہیں،کیونکہ محدثین کرام نے اس کے لئے بڑی سخت شرطیں لگائی ہیں ۔(۱) راوی عربی زبان کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہو ۔(۲) شریعت کے غایات و مقاصد کو جانتا ہو۔ (۳) جس حدیث کی روایت بالمعنی کرنا چاہتا ہے وہ جوامع الکلم کے قبیل سے نہ ہو ۔ (۴) وہ حدیث ایسی نہ ہو کہ اس کے الفاظ عبادت شمار ہوتے ہوں ۔(۵) جس حدیث کی روایت بالمعنی کرنا چاہتا ہے،اس کے الفاظ اسے یا د نہ ہوں ۔لہذا جو راوی ان شرائط کا حامل نہ ہو تو اس کو روایت بالمعنی کرنا جائز نہیں ۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ” متن حدیث کے الفاظ میں عمداً تبدیلی کرنا یا اختصار کرنا جائز نہیں اور نہ ایک ہم معنی لفظ کو دوسرے ہم معنی لفظ سے بدلنا جائز ہے ۔ہا ں یہ کا م اسی کے لئے جائز ہو سکتا ہے جو الفاظ کے معانی و مطالب سے بخوبی واقف اور باخبر ہو “۔معلوم ہوا کہ روایت باللفظ کی طرح روایت بالمعنی بھی معتبرہے ۔لہذا مستشرقین ،ملحدین کے دام فریب میں آنے کی ضرورت نہیں ۔ بیان حدیث کی بے احتیاطیوں پر مزید گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج ہم میں ایسے کتنے لوگ ہیں جو اپنی من گھڑت باتیں رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ۔حالانکہ موضوع اور جھوٹی احادیث بیان کرنے پر سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ” جو شخص میرا نام لے کر قصداً جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے ،وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے ۔ اب جو لوگ من گھڑت باتیں رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرتے ہیں وہ اپنی آخرت برباد کرتے ہیں اور دنیا میں ذلت و رسوائی کو گلے لگاتے ہیں ۔ قبل ازیں مقابلے کا آغازحافظ غلام مجاہد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعدہ دار العلوم کے متعلم عبد الواجد نے بارگاہ نبوت میں نعت کا نظرانہ پیش کیا ،اس کے بعدمولانا عبد الرحمن قادری صاحب نے باضابطہ طلبا کو یکے بعد دیگرے مقابلہ کے لئے مدعوکیا۔فیصل کے فرائض حضرت مولانا محمدرفیق برکاتی مصباحی ،مولانا سید احمد علی مصباحی اورحافظ عالم قادری صاحبان نے انجام دیا۔آخیر میں مفتی منشاد احمد صاحب نے کامیاب طلبا میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم محمد سہیل رضا بن سفیر اللہ،دوم عبد الخلیل بن عبد القاسم باراہلی ،اور سوم محمد ارباز بن فہیم نظام آباد کے ناموں کا اعلان فرماکر حافظ سالم القادری ، حافظ ایوب رضوی اور قاری توفیق صاحبان کے دستہائے اقدس سے اسناد و انعامات کی تقسیم فرمائی ۔محفل کا اختتام صلاة و سلام اور مفتی صاحب قبلہ کی دعا پر ہوا ۔اس موقع پر جملہ اساتذہ و طلبا ،کمیٹی ممبران اور دیگر سامعین موجود تھے ۔اس طرح کا پریس نوٹ حضرت مولانا محمدرفیق مصباحی نے جاری کیا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading