خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم!

مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخاب کے نتائج ظاہر ہوئے 19 دن گزرجانے کے باوجودچار اہم بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کوئی جماعت تشکیل حکومت میں کامیاب نہ ہونے کے بعد گورنر بھگت سنگھ کوشیاری جو سنگھ پریوار سے تعلق رکھتے ہیں کے صدرراج نافذ کرنے کی سفاش کرنے کے اندرون تین گھنٹے صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووندنے مہاراشٹر میں صدر نافذ کردیا ۔اس سے قبل انھوں نے مرکزی حکومت کی رائے بھی جانی ‘ مرکزی وزارت نے بہ عجلت کابینی اجلاس منعقد کرکے گورنر کوشیاری کی سفارش کو منظوری بھی دے دی ۔یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی خوشحال‘ ترقی یافتہ ریاست مہاراشٹر صدرجمہوریہ کے ماتحت چلی گئی ہے لیکن صدرجمہوریہ نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا ہے بلکہ اسے معطل رکھا ہے ۔ اس لئے سیاسی جماعتوں کو تشکیل حکومت کاموقع فراہم رہے گا ورنہ چھ ماہ تک صدرراج قائم رہے گااس کے بعدصدرجمہوریہ چاہے تو دوبارہ الیکشن کرواسکتے ہیں یا پھر صدر راج کی معیاد میں توسیع کرسکتے ہیں۔


مہاراشٹرمیں جیسے ہی صدرراج نافذ ہونے کی اطلاع شیوسینا کے کانوں میں پڑی اس کے اعلیٰ قایدین کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔ صورتحال یہ ہے کہ وہ اپنا وزیراعلیٰ بنانے کے چکر میں بی جے پی سے طلاق لے چکی ہے ۔کانگریس اورر راشٹروادی کانگریس جنہوں نے شیوسینا کو حکومت سازی کےلئے تائید دینے اور حمایت کرنے کاوعدہ کیاتھا اب وہ بھی شیوسیناکومنہ نہیں لگائیں گی ۔ دیگر معنی میں شیوسیناکی حالت اُس نامراد عاشق کی طرح ہوگئی ہے جس کو خدا ہی ملا نہ وصال ِ صنم حاصل ہوا ! اب گھسیانی بلی کی طرح شیوسینا گورنر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹانے دہلی پہونچ گئی ہے لیکن قانون دانوں اورسیاسی تجربہ نگاروں کی نظر میں شوسینا کوسپریم کورٹ سے بھی کوئی راحت ملنے کے امکانات نہیں ہیں۔

شیوسینا کا ادعاءیہ ہے کہ گورنر نے جب بی جے پی کو حکومت سازی کےلئے دو دن کی مہلت دی تھی تو پھر اسے صرف چوبیس گھنٹے کیوں دئےے گئے۔ اب اسے کون بتائے کہ 17دن کاموقع ملنے کے باوجود شیوسینا ‘اپنے مخالف نظریات والی کانگریس اورراشٹروادی کانگریس سے حمایت کا”لولیٹر“ حاصل نہیں کرسکی ۔ ”لولیٹر“ حاصل نہ ہونے کے پس پردہ سیاسی پنڈتوں کاخیال ہےکہ کانگریس اور راشٹر وادی ۔شیوسینا کے ساتھ حکومت میں بیٹھنے کے بجائے شیوسینا کو بی جے پی سے طلاق دلواناچاہتی تھیں ۔اورجب شیوسینا کے مرکزی وزیر ساونت نے مرکزی وزارت سے اپنا استعفیٰ دے کر این ڈی اے سے شیوسینا کی علاحدگی کا اعلا ن کردیاتو کانگریس اور راشٹروادی کے رہنماوں کے دلوں میں لڈو پھوٹنے لگے ۔

اب مہاراشٹر سیاست کی چابی بی جے پی کے ہاتھ میں چلی گئی ہے جو دہلی کے تخت پر براجمان ہے ۔بی جے پی یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ مہاراشٹرمیں شیوسینا ۔کانگریس ۔راشٹروادی کی حکومت بنے بلکہ وہ چھ ماہ بعد دوبارہ اسمبلی الیکشن کروانا پسند کرے گی ۔ان چھ مہینوں میں اپنی پارٹی کی ساکھ کو مزید بہتر اور مضبوط کرنے کی پوری کوشش سام ‘دام اور ڈنڈ کے فارمولے کی مدد سے کرے گی ۔ موجودہ 288 رکنی اسمبلی میںبی جے پی کے 105‘اراکین اسمبلی ہیں ۔ جبکہ شیوسیناکے 56۔جہاں بی جے پی اپنے اس عدد کو 150تک لےجانے کےلئے ایڑی چوٹی کازور لگادے گی ۔وہیں شیوسینا کوہر محاذ پربے نقاب کرے گی ۔ اس طرح کانگریس اورراشٹروادی کانگریس کی موقع پرستی پر بھی کھل کر حملے کرے گی ۔ ویسے ایودھیا مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کی متنازعہ اراضی پر رام مندر کے تعمیر ہونے کی قانونی راہیں نکل آئی ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بی جے پی نے اپنے ہرالیکشن منشورمیں رام مندر کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے ۔ اور سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کو وہ پوری طرح بھُنانے کی حکمت عملی تیار کرے گی ۔ آج سارے ملک میں ہندو سماج بی جے پی کی تعریفوں کے دُونگرے برسارہی ہے دوبارہ اسمبلی الیکشن میں مہاراشٹرمیں ہندوسماج کی اکثریت بی جے پی کے ساتھ جاسکتی ہے بلکہ شیوسینا کا بڑا ووٹ بینک بھی بی جے پی کے کھاتے میں جاسکتا ہے ۔اگر ایسا ہواتو بی جے پی تنہا اپنی طاقت پردیویندر پھڑنویس کی قیادت میں ریاست میںدوبارہ اقتدار میں آسکتی ہے ۔ اس امکان کونظرانداز نہیں کیاجاناچاہئے ۔ لیکن کانگریس اور راشٹروادی کانگریس جو آج بھی ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سیاسی گلیاروں کی گشت کررہی ہیں اپنی سیٹوں میں اضافہ کےلئے ہاتھ پیر ضرور مارے گی ۔ یہ دونوں ہم خیال اور ہم نظریہ جماعتیں چیخ چیخ کرعوام سے کہہ سکتی ہیں کہ مہاراشٹر کے عوام نے بی جے پی۔شیوسینا کو حکومت سازی کاسنہرا موقع عطاءکیاتھا لیکن یہ دونوں عہدوں کو لے کر ایک دوسرے کاگریبان چاک کرنے میں مصروف رہے ۔ اور دونوں جماعتیں بالآخر تشکیل حکومت میں ناکام ہوئیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ آئندہ الیکشن بی جے پی بمقابلہ جڑواں کانگریس کے درمیان ہوگا ۔ جبکہ تنہا رہے جانیوالی شیوسینا کواپنی بقاءاور وجود کی فکر اندر ہی اندر ستاتی رہے گی ۔


صدر راج سے سب سے زیادہ خوفزدہ اور فکرمند وہ اراکین اسمبلی ہیں جو بہت کم ووٹوں سے چن کر آئے ہیں ان میںبی جے پی ‘شیوسینا‘کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس کے علاوہ آزاد بھی شامل ہیں۔ منتخبہ اراکین چھ ماہ بعد الیکشن کاسامنا کرنے تیار نہیں ہوں گے ۔ توہوگا یہ کہ گھوڑے بازار کے رجحان کوتقویت مل سکتی ہے ۔بی جے پی جو مرکز اور کئی ریاستوںں میں برسراقتدار ہے ۔سام ‘دام اور ڈنڈ کے سہارے شیوسینا کے علاوہ دیگر اپوزشن پارٹیوں کے اراکین کو منحرف کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

محمدتقی (مدیر اعزازی ”ورق تازہ“ ناندیڑ)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading