خواتین ریزرویشن پر بی جے پی کو بولنے کا کوئی حق نہیں: ہرش وردھن سپکال
پہلے ‘بنچ آف تھاٹس’ اور ‘منوسمرتی’ جلائے، پھر بات کرے
ہمت ہے تو آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک کے عہدے پر خاتون کو مقرر کرے
بی جے پی حد بندی پر خاموش کیوں؟ ممبئی اور مہاراشٹر کو ’کاؤ بیلٹ‘ بنانے کی سازش
کانگریس کے قومی صدر کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، مرکزی حکومت پر دباؤ کی سیاست کا الزام
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے خواتین کے ریزرویشن کا مخالف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس پارٹی کو نہ تو خواتین ریرزویشن پر بات کرنے کا نہ تو کوئی اخلاقی جواز حاصل ہے اور نہ ہی کوئی نظریاتی بنیاد، کیونکہ اس کی فکر ایسے م تصورات سے جڑی ہے جو خواتین کو مساوی حیثیت دینے کے بجائے انہیں کمتر درجے پر رکھتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے نام پر سیاست کرنے سے قبل بی جے پی پہلے اپنے نظریاتی تضادات دور کرے۔
تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی کی نظریاتی بنیاد بنچ آف تھاٹ اور منوسمرتی جیسے تصورات پر قائم ہے، جن میں خواتین کو کمتر مقام دیا گیا ہے، اس لیے ایسی پارٹی کا خواتین کے ریزرویشن پر موقف محض نمائشی جو ان نظریات کی حامل ہو۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر بی جے پی واقعی خواتین کے حقوق کی علمبردار ہے تو وہ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک کے عہدے پر کسی خاتون کو مقرر کر ے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے بی جے پی کو اپنی تاریخی اور سماجی ذمہ داریوں کا بھی جواب دینا چاہیے، خصوصاً اس تناظر میں کہ جب ساوتری بائی پھولے نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پہل کی تھی تو انہیں کن حالات اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق آج وہی ذہنیت خواتین کے نام پر سیاست کر رہی ہے، جو ماضی میں ان کے حقوق کی مخالف رہی ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے حد بندی کے مسئلے پر بی جے پی کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حالیہ قانون سازی کے ذریعے ملک کے سیاسی توازن کو متاثر کرنے اور ممبئی و مہاراشٹر کی شناخت بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد نے اس خدشے کو محسوس کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کا بل پہلے ہی پارلیمنٹ میں منظور ہو چکا ہے، اس کے باوجود بی جے پی اس معاملے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
ورلی میں بی جے پی کے مورچے کے دوران پیش آئے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مقامی خاتون کے احتجاج کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صحافیوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو نہ صرف آزادی صحافت بلکہ جمہوری روایات کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس اور میڈیا دونوں ایسی کسی بھی دباؤ کی سیاست سے مرعوب نہیں ہوں گے۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کے بیان سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی قیادت میں مرکزی حکومت ای ڈی اور سی بی آئی جیسے اداروں کے ذریعے سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں یکطرفہ کارروائی کے بجائے مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہیے۔
MPCC Urdu News 22 April 26.docx