خسرہ اور روبیلا کی ٹیکہ اندازی کو لیکر عوام تذبذب میں مبتلا

مالیگاؤں(عامر ایوبی) مدارس اور مساجد کے شہر مالیگاؤں میں خسرہ اور روبیلا بیماری کے تدارک کیلئے ٹیکہ اندازی مہم کا آغاز ہوچکا ہے لیکن زیادہ تر اسکولوں میں ٹیم کو سرپرستوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا دراصل خسرہ اور روبیلا کے ٹیکے کو لیکر عوام تذبذب میں مبتلا ہیں کہ یہ ٹیکہ لگانا چاہیے یا نہیں اسی درمیان واٹس ایپ اور اخبارات میں کچھ ایسے خبریں بھی گشت کررہی ہیں کہ چند مقامات پر اس ٹیکے کے لگانے کے بعد بچوں کی موت بھی واقع ہوگئی ہے جبکہ عوام میں یہ بھی افواہ گشت کررہی ہیکہ یہ ٹیکہ ایک سازش کے تحت لگایا جارہا ہے اور اسکا مقصد نسل کشی کرنا ہے اس ٹیکے کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیوں میں جنسی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے سوشل میڈیا اور اخبارات میں اس طرح کی بہت ساری خبریں آنے کے بعد زیادہ تر والدین اس ٹیکے کو لگانے سے انکار کررہے ہیں کچھ سرپرست تو اپنے بچوں کو اسکول بھی روانہ نہیں کررہے ہیں نمائندہ نے چند سرپرستوں سے اس سلسلہ میں گفتگو بھی ایک ایک بچے کی والدہ نے اپنا نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ” ہم اس ٹیکے کو لگوانے کیلئے تیار تھے لیکن اخبارات میں کئی خبریں ایسی شائع ہوئی ہیں کہ اس ٹیکہ کی وجہ سے کئی بچے بیمار اور کچھ بچے موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں اس لیے ہم اپنے بچوں کو یہ ٹیکہ نہیں لگائیں گے” معروف سوشل ورکر اور سہ روزہ اخبار میدان صحافت کے مدیر شہزاد اختر نے کہا کہ” آخر حکومت کیوں اسی ٹیکے کو لگانے کیلئے بضد ہے جبکہ سماج تپ دق، گردے کی بیماریاں، امراض قلب وغیرہ کے مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے حکومت کو اس جانب توجہ دینے چاہیے ناکہ خسرہ اور روبیلا کے ٹیکہ کو لیکر بضد ہونا چاہیے” حالانکہ اس بات کی تردید انتظامیہ کی جانب سے کی جارہی ہے خسرہ اور روبیلا کے لیے کام کررہی ٹیم کے مطابق یہ سب باتیں محض افواہ پر مشتمل ہیں یہ ٹیکہ صرف حفظ ما تقدم کے طور پر لگایا جارہا ہے غیر مسلم بلا کسی خوف و جھجک کے اپنے بچوں کو یہ ٹیکہ لگوارہے ہیں ٹیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چند مسلم سرپرست یہ ٹیکہ لگانے سے انکار کررہے ہیں حالانکہ اس ٹیکہ کو لگانے کیلئے سبھی مسالک کے علمائے کرام نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا ہے اور وہ اس مہم میں ہمارے شانہ بشانہ چل رہے ہیں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading