حیدرآباد: شہر حیدرآباد کے سائبر آباد پولس کمشنریٹ کے حدود میں 26سالہ وٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کے قتل اور لاش کو جلا دینے کی واردات کے ملزمین کے انکاونٹر میں ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں اب مسخ ہونے لگی ہیں۔
تلنگانہ ہائی کورٹ اور قومی انسانی حقوق کمیشن کی ہدایت پر ان لاشوں کو گاندھی اسپتال کے مردہ خانہ میں محفوظ کر دیا گیا، تاہم یہ لاشیں آہستہ آہستہ مسخ ہونے لگی ہیں جس پر گاندھی اسپتال کے ڈاکٹرس نے تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں محکمہ صحت کو مطلع کیا۔
ان لاشوں کو مزید دو ہفتوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے تاہم ایسا کرنے کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ چونکہ یہ لاشیں مردہ خانہ کے فریزرس میں مزید ایک ہفتہ تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پولس ان لاشوں کو دہلی کے عصری مردہ خانہ میں محفوظ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ دوسری طرف ملزمین کے ارکان خاندان کا مطالبہ ہے کہ ان لاشوں کو آخری رسومات کے لئے ان کے حوالے کر دیا جائے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
