’عوامی آواز کو دبا رہی مودی سرکار‘، اپوزیشن لیڈران کی صدر سے ملاقات کے بعد سونیا کا بیان

ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے درمیان حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے منگل کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں صدر رام ناتھ کووند سے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والے وفد میں سونیا گاندھی کے علاوہ کانگریس کے سینئر رہنما کپل سبل، غلام نبی آزاد، سماجوادی پارٹی کے رہنما رام گوپال یادو، سی پی آئی کے سیتارام یچوری اور ڈی راجہ بھی شامل تھے۔

صدر سے ملاقات کے بعد سونیا گاندھی نے کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں اور دہلی میں صورتحال کشیدہ ہیں۔ ہم نے صدر سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولس جامعہ یونیورسٹی میں طلباء کے ہاسٹل میں داخل ہوئی۔ احتجاج کرنا جمہوری حق ہے لیکن مودی حکومت عوام کی آواز کو دبا رہی ہے۔

وہیں، ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ڈریک اوبرائن نے کہا کہ ہم نے صدر سے درخواست کی ہے کہ وہ کلی طور پر ترمیمی شہریت قانون کو واپس لینے کے لئے حکومت کو ہدایت دیں۔ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے کہا کہ ہم نے صدر کو آگاہ کیا ہے کہ ہم نے پارلیمنٹ میں جو کچھ کہا تھا وہ اب حقیقت میں ثابت ہو رہا ہے۔ ہر شخص یہ دیکھ رہا ہے کہ جب لوگوں میں خوف طاری ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے، پاکستان یہی چاہتا ہے۔ حکومت نے اسے موقع فراہم کر دیا۔

وفد میں موجود کانگریس کے رکن پارلیمنٹ غلام نبی آزاد نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون سماج کو تقسیم کرنے والا ہے۔ حکومت کو ملک اور شہریوں کی فکر نہیں ہے۔ حزب اختلاف جانتا تھا کہ ملک اس قانون کو مسترد کر دے گا اور یہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے اداروں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ نیز، آسام میں 5 افراد کی موت ہوگئی اور 20 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا پہلے کشمیر، پھر شمال مشرقی اور اب پورا ملک جل رہا ہے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن شہریت ترمیمی قانون کے حوالہ سے مودی حکومت پر حملہ آور ہے اور اس قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں کی حمایت میں ہے۔ پیر کے روز کانگریس کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی ملک کی کئی ریاستوں میں مظاہروں کے درمیان انڈیا گیٹ پر دھرنے پر بیٹھی تھیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading