حکومت‘ ISIS اور اس جیسی ویب سائٹس کو بلاک کرے:مسلم نمائندہ کونسل

اورنگ آباد:25جنوری(ورق تازہ نیوز)

گزشتہ دنوں تھانے اور اورنگ آباد کے نوجوانوں کو ۹کی تعداد میں گرفتار کیا گیااور ان کا ریمانڈ لے کرپولس کسٹڈی روانہ کردیا گیا۔مسلم نمائندہ کونسل نے شہراورنگ آباد کے حالات کے پیش نظر ایمر جنسی میٹنگ بلائی اور صورت حال کا جائزہ لیا۔جائزہ میں یہ بات کھل کر آئی کہ 2019 کے الیکشن کے پیش نظر ملک کی فضا کو گرد آلود کیا جارہا ہے۔ دہلی،امروہا اور گونڈا میں اسی طرح کی کاروائیاں ہوئی ہیں اور ری کوری کے نام پر پٹاخے اور ٹریکٹر کے پائپ کو بم اور راکٹ لانچر دکھلایا گیا ہے۔اور تھانے اور اور نگ آباد میں بھی ری کوری کے نام پر لیپ ٹاپ،سیل فون اور تھنرکی بوٹل وغیرہ کو دکھلایا گیا ہے۔لپ ٹاپ،سیل فون اورتھنر رکھنا جرم کب سے ہوگیا ہے؟

آئی ایس آئی ایس سے رابطہ جوڑا جارہا ہے۔جس جماعت کا اتہ پتہ نہیں اسے فرضی نام سے جوڑ کر نوجوانوں کی زندگیاں برباد کی جارہی ہے۔ہم اپنے شہر کے نوجوان مشاہد الاسلام کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ جہاں تک ہماری معلومات کا سوال ہے وہ صاف ستھرا کردار رکھنے والا،صوم و صلوة کا پابند جوان ہے اور ایسی کسی بھی سرگرمی میں وہ نہیں ہوسکتا۔دیگر نوجوان تھانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہماری معلومات زیادہ نہیں اس لیے عدالت کے کسی حتمی فیصلے تک انہیں بھی مجرم نہیں مانا جاسکتا۔کسی بھی سائٹس پر سرفنگ کرنا جرم نہیں ہے۔البتہ اس سائٹس کے مطابق کوئی سرگرمی جرم ہوسکتی ہے۔جب کہ ہماری معلومات کی حد تک ان لڑکوں نے کوئی خلاف قانون حرکت کی ہی نہیں۔حکومت کو چاہیے کہ آئی ایس آئی ایس اور اس جیسی تمام سائٹس کو فی الفور بلاک کردے۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔لیکن انتظامیہ ایسی سائٹس کو کھلا بھی رکھنا چاہتی ہے اور اس کی سرفنگ کو جرم بھی نہیں مانتی اور گرفتاریوں کی لہر چلا رکھی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ موجودہ حکومت ایسی حرکتوںسے اپنے ووٹ بینک کوبڑھانا چاہتی ہے۔گزشتہ دنوں ڈمبیولی کلیان میں پکڑے گئے ہتھیاروں کے معاملہ میں بی جے پی کے ایک لیڈر کا نام لیا جارہا ہے کیا ہوا اس کا؟ پانسارے، گلبرگی، گوری کےقاتل کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟اس پر کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟سناتن سنستھا سے تعلق رکھنے والوں کی جن کا راست قتل وغارت گری میں ہاتھ ہے انہیں چھوڑا جارہاہے۔مالیگاوں بلاسٹ،اجمیر بلاسٹ اور سمجھوتہ بلاسٹ کے مجرم کھلے عام گھوم رہے ہیں لیکن شک کی بنیاد پر درجنوں مسلم جوانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جارہا ہے۔ان حالات کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے آئی ایس آئی ایس اور اس جیسی تمام سائٹس کو بلاک کیا جائے۔جوانوں سے اپیل ہے کہ وہ ایسی سائٹس سے اجتناب کرے جو دین و دنیا میں رسوائی کا باعث ہوں۔ولدین سے اپیل ہے کہ اپنی اولاد کے سلسلہ میں مہربانہ نگرانی کو سخت کریں۔ان کے دوست واحباب پر نظر رکھیں،افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریں.

نوجوانوں کی گرفتاریوں سے شہر میں بے چینی کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔انتظامیہ کو اس بے چینی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اس کے لیے معقول وجوہات کی ضرورت ہے جو عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading