حکومت کشمیر کے پردے میں ناکامیوں کو چھپارہی ہے: نواب ملک

ممبئی: ناکام حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لئے بی جے پی لیڈران کشمیر کا موضوع اچھال کر عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ یہ سخت تنقید راشٹروادی کانگریس پارٹی (این سی پی) کے قومی ترجمان اور ممبئی صدر نواب ملک نے کی ہے۔ پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے آج ایک بار پھر کشمیر کا معاملہ اٹھایا ہے۔یہ دراصل اپنی ناکام حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہے۔ اس کے ذریعے بی جے پی کے لیڈران ملک کو درپیش اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں اور انہیں گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اس معاملے میں کسی کی دورائے نہیں ہے۔ لیکن کچھ دنوں سے بی جے پی کے لوگ اس معاملے کو لے کر عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ ناسک میں وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس نے کشمیر کو بھارت کو دلانے کے لئے شکریہ اداکیا تھا۔ نواب ملک نے سوال کیا کہ اگر کشمیر اب بھارت کو ملا ہے تو پھر کشمیر میں محبوبہ مفتی کے ساتھ کس ملک میں حکومت چلارہے تھے؟ اس کا جواب بی جے پی کے لوگوں کو دینا چاہئے۔

نواب ملک نے مزید کہا کہ مودی کی کابینہ میں جیتندرسنگھ نام کے ایک ممبرپارلیمنٹ ہیں جو وزیر بھی ہیں۔ وہ ملک کے کس حصے سے منتخب ہوئے ہیں؟ یہ صرف اور صرف عوام کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے اور کچھ نہیں۔ نواب ملک نے کہا کہ امیت شاہ کہتے ہیں کہ گزشتہ 70 دنوں سے کشمیر میں ایک بھی گولی نہیں چلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں امن وامان رہنا چاہئے یہ ملک کے لوگوں کی دلی خواہش ہے۔ لیکن 70 دن گزرنے کے باوجود ابھی تک کرفیو نہیں اٹھایا گیا ہے، اس کا بھی جواب امیت شاہ کو دینا چاہئے۔ نواب ملک نے کہا کہ نہرو کواس بات کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے کہ ان کی وجہ سے پی او کے بنا۔ لیکن اگر آپ پی اوکے اور چین کے قبضے کشمیر کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس جانب قدم بڑھائیے، اس کی کوئی مخالفت نہیں کرے گا۔

ریاستی اسمبلی انتخابات کے تعلق سے نواب ملک نے کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں یقینی طور پر ریاست میں اقتدار کی تبدیلی ہوگی۔ نوجوانوں، کسانوں نیز عام لوگوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اس کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ہرمحاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ کسان مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں، خود کشی کرنے والے کسانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، سیلاب زدہ اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی مدد نہیں کی جاسکی ہے۔ کسانوں کو مکمل قرض معافی نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں مندی کی وجہ سے کارخانے بند ہورہے ہیں، بیروزگاری میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہورہا ہے جو ریاست کے سامنے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ ناکام سرکار اپنی کامیوں کو چھپانے کے لئے کشمیر کا موضوع اچھال کر عوام کوگمراہ کررہی ہے لیکن عوام کافی سمجھدار ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے حقیقی مسائل کیا ہے اور یہ حکومت انہیں حل کرنے میں کس قدر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading