حکومت میں سناتن سنستھا کو بچانے والے سادھک کون ہیں؟اشوک چوہان

ممبئی:25نومبر(ورقِ تازہ نیوز) کرناٹک حکومت کی تفتیشی ٹیم نے گوری لنکیش قتل معاملے میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں سناتن سنستھا کا نام ملزم کے طور پر شامل کیا ہے۔ اس سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوتی ہے کہ یہ ایک خطرناک تنظیم ہے جو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اس سے قبل بھی اس ضمن میں کئی ثبوت وشواہد منظرِ عام پر آچکے ہیں لیکن سناتن سنستھا کے خلاف کسی بھی طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔جس کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت میں سناتن سنستھا کوبچانے والے سادھک کون ہیں؟ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چوہان نے کہی ہیں۔اس تعلق سے انہوں نے کہا ہے کہ کرناٹک پولیس کی خ©صوصی تفتیشی ٹیم نے عدالت میں جو چارج شیٹ داخل کی ہے، اس کے مطابق گوری لنکیش قتل کے معاملے میں گرفتار کئے گئے ملزمین سناتن سنستھا سے تعلق رکھتے ہیں اور سناتن سنستھا نے دیگر شدت پسند تنظیموں کی مدد سے قتل کی یہ واردات انجام دی ہے نیز اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نریندردابھولکر، ایم این کلبرگی وڈاکٹر گوند پانسارے کے قتل سے بھی سناتن سنستھا کا تعلق ہے۔ اس لئے ہمارا ایک بار پھرمطالبہ ہے کہ سناتن سنستھا پر پابندی عائد کرکی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ممبئی کے پاس نالاسوپارہ میں سناتن سنستھا کے ایک سادھک کے پاس سے زندہ بم نیز بم بنانے کے دیگر سازوسامان کا بڑا ذخیرہ ضبط کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں سناتن سنستھا کے کچھ سادھکوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ دھماکہ خیز اشیاءکے اتنے بڑے ذخیرے کی برآمدگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزمین کوئی بہت بڑی دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے والے تھے۔ اس کے باوجود حکومت نے سناتن سنستھا پر کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی۔ ۸۰۰۲ میں گوا میں ہوئے بم دھماکوں میں سناتن سنستھا کے سادھکوں کا ہی ہاتھ تھا، جو انڈیا ٹوڈے نیوز چینل نے اپنے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے منظرِ عام پر لایا ہے۔ ان سب کے باوجود حکومت نے سناتن سنستھا کی معمولی تفتیش تک نہیں کی۔ اشوک چوہان نے کہا کہ کرناٹک حکومت نے اگر اس معاملے کی تفتیش نہ کی ہوتی تو سچائی سامنے نہیں آپاتی۔ اس ضمن میں مہاراشٹر حکومت کا رویہ مکمل طور پر مشکوک ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading