حماس کا اسرائیل پر زمین، فضا اور آبی راستے سے ناقابل یقین حد تک برق رفتار حملہ کیسے ممکن ہوا؟

جب یہ حملہ شروع ہوا تو بہت سے اسرائیلی شاید سو رہے ہوں گے۔سنیچر یہودیوں کے لیے ’سیبیتھ‘ کا دن تھا جس کا مطلب ہے کہ بہت سے خاندان گھروں میں، دوستوں سے ملاقاتوں یا پھر عبادت گاہوں میں وقت بتانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

لیکن اچانک صبح سویرے راکٹوں کی برسات نے ایک ایسے حملے کے آغاز کا عندیہ دیا جو وسعت اور منصوبہ بندی کے حساب سے غیر معمولی تھا۔

برسوں سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو رکاوٹوں کے ذریعے الگ تھلگ کر رکھا ہے۔ تاہم سنیچر کے روز حماس کی جانب سے چند ہی گھنٹوں میں یہ رکاوٹیں عبور کر لی گئیں۔

بی بی سی نیوز نے عسکریت پسندوں اور عام شہریوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز کا تجزیہ کیا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ حماس نے غزہ سے اب تک کے سب سے مربوط حملے کی ابتدا کیسے کی؟

راکٹوں سے حملے کے آغاز کا اشارہصبح تقریباً ساڑھے چھ بجے کا وقت تھا جب راکٹوں کی برسات شروع ہوئی۔ غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والی تنظیم حماس، جسے برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں، اکثر راکٹوں کے استعمال جیسی حکمت عملی استعمال کرتی رہی ہے۔

حماس کے اِن راکٹوں کے خلاف اسرائیل کا جدید ’آئرن ڈوم‘ نامی دفاعی میزائل نظام عموماً مؤثر ثابت ہوتا ہے لیکن سنیچر کی صبح انتہائی مختصر وقت میں داغے گئے ہزاروں راکٹوں نے اس نظام کو غیر موثر کر دیا تھا۔

غزہ کی پٹی سے 60 کلومیٹر دور اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب تک میں الارم بجنا شروع ہوئے اور جلد ہی مغربی بیت المقدس اور دیگر شہروں میں جہاں جہاں میزائل گرے دھواں اٹھنا شروع ہو گیا۔

راکٹوں کی اس برسات کے دوران حماس کے مسلح جنگجو اُن مقامات پر اکھٹے ہوئے جہاں سے انھوں نے غزہ کو الگ کرنے والی رکاوٹیں عبور کرنا تھیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے اپنی فوج اور آبادکاروں کو 2005 میں غزہ سے نکال لیا تھا لیکن اب تک غزہ کی فضا، سرحدوں اور ساحلوں پر اسرائیل کا ہی کنٹرول ہے۔

غزہ کی پٹی کے گرد کہیں کنکریٹ سے بنی دیوار ہے تو کہیں کانٹے دار باڑ نصب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فوجی چوکیاں موجود ہیں جبکہ ایسے ہی حملوں کی روک تھام کے لیے کیمرا نیٹ ورک اور سینسر بھی نصب ہیں۔

چند ہی گھنٹوں میں اس رکاوٹ کو مختلف مقامات پر پار کر لیا گیا۔

حماس نے رکاوٹ کو کیسے عبور کی؟
حماس کے چند جنگجوؤں نے تو اس رکاوٹ کو مکمل طور پر بائی پاس کیا جس میں فضائی گلائیڈرز بھی شامل تھے (غیر مصدقہ فوٹیج میں کم از کم سات ایسے فضائی گلائیڈرز اسرائیل میں دیکھے گئے)۔ چند جنگجو کشتیوں کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہوئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے حماس کی دو کشتیوں کو اسرائیل میں داخل ہونے سے روکا گیا۔لیکن اس حملے کی خصوصیت کراسنگ پوائنٹس پر متعدد اور منظم حملے تھے۔پانچ بج کر 50 منٹ پر حماس کے مسلح ونگ کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر ابتدائی تصاویر شائع ہوئیں جو کریم شالوم کے مقام پر لی گئی تھیں۔ یہ اسرائیل میں غزہ سے داخل ہونے کے لیے سب سے جنوبی مقام ہے۔

ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ باڑ کے پار مسلح جنگجو ایک فوجی چوکی پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پھر زمین پر دو اسرائیلی فوجیوں کی خونیں لاشیں نظر آتی ہیں۔

ایک اور تصویر میں پانچ موٹرسائیکلوں پر سوار مسلح جنگجو خاردار رکاوٹ کے ایک حصے سے گزرتے ہیں جسے کاٹا جا چکا ہے۔

ایک اور حصے پر ایک بلڈوزر کی مدد سے خاردار رکاوٹ کو گرایا جا رہا تھا۔ یہاں درجنوں مسلح افراد موجود تھے جن میں سے چند تقسیم کرنے والی رکاوٹ کو عبور کرنا شروع کر دیتے ہیں۔کریم شالوم سے تقریبا 43 کلومیٹر دور، غزہ کے شمال میں، حماس کی جانب سے ایریز کے مقام پر خاردار رکاوٹ کو پار کرنے کی ایک اور کوشش جاری تھی۔

یہاں سے جاری ہونے والی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ کنکریٹ کے بیریئر پر دھماکہ ہوتا ہے جو حملے کے آغاز کا اشارہ ہے اور پھر ایک مسلح جنگجو اپنے ساتھیوں کی جانب ہاتھ لہرا کر انھیں آگے بڑھنے کا اشارہ دیتا ہے۔

بلٹ پروف جیکٹ پہنے، رائفلیں تھامے آٹھ جنگجو اسرائیلی فوجی چوکی کی جانب دوڑتے ہیں اور فائرنگ کرتے ہیں۔

اس ویڈیو میں آگے چل کر زمین پر اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں دکھائی دیتی ہیں جبکہ جنگجو، جو واضح طور پر تربیت یافتہ اور منظم ہیں، کمپاونڈ میں تمام کمروں کا جائزہ لیتے ہیں۔

اسرائیل کے اندر دور تک حملہ آوروں کی پہنچ
حماس کے جنگجو غزہ سے نکل کر ہر سمت میں پھیل گئے۔ اسرائیلی حکام سے حاصل شدہ معلومات سے علم ہوتا ہے کہ وہ 27 مقامات پر حملہ آور ہوئے اور بظاہر انھیں حکم تھا کہ وہ دیکھتے ہی گولی چلا دیں۔

حماس کے جنگجو سب سے دور جس مقام تک پہنچے وہ غزہ کے مشرق میں 22 کلومیٹر دور اوفاکم کا قصبہ ہے۔سدیروت میں جنگجو ایک پک اپ ٹرک میں قصبے سے گزرے جو غزہ کے مشرق میں تین کلومیٹر دور ہے۔

تقریبا ایک درجن مسلح جنگجو اشکیلون کی خالی سڑکوں پر دیکھے گئے جو ایریز کے شمال میں ہے۔ جنوبی اسرائیل کے متعدد مقامات پر ایسے ہی مناظر دیکھے گئے اور اسرائیلی حکام نے عام شہریوں کو گھروں میں چھپ جانے کی تاکید کیریئم کے قریب ایک صحرا میں ایک موسیقی فیسٹیول ہو رہا تھا جس میں بڑی تعداد میں نوجوان شرکت کر رہے تھے۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح جنگجو ہتھیاروں سے بھری ایک وین میں گھوم رہے تھے اور ابتدائی فائرنگ کے بعد تین گھنٹے تک مذید اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کے لیے تلاش کرتے رہے۔
اس کے علاوہ متعدد ویڈیوز آن لائن دیکھی گئی ہیں جن میں چند اسرائیلی غزہ کی پرہجوم گلیوں میں گھمائے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی آبادیوں کے ساتھ ساتھ حماس نے دو فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ ان میں سے زکم اور دوسری ریئم میں موجود فوجی اڈے تھے۔

ریئم سے سامنے آنے والی فوٹیج میں کئی جلی ہوئی گاڑیاں اس اڈے کے قریب سڑک پر نظر آتی ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہاں ہونے والی لڑائی میں کتنے افراد ہلاک ہوئے۔

حماس کے سوشل میڈیا چینلز پر کئی بار ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔ بی بی سی نے ان تصاویر کی تصدیق نہیں کی۔

راکٹ حملے کی ابتدا کے چند گھنٹوں میں سینکڑوں اسرائیلی ہلاک ہو چکے تھے اور یہ سب ایک ایسے انداز میں ہوا جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

چند گھنٹوں میں اسرائیل کے جنوبی علاقوں میں فوجی مدد پہنچنا شروع ہو گئی لیکن ایک وقت تک حماس غزہ سے باہر کافی علاقے پر کنٹرول رکھے رہا۔

اس حیران کن حملے کی برق رفتاری اور اس سے ہونے والے نقصان نے اسرائیل کو دنگ کر دیا ہے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا، ایک ایسا سوال ہے جو کئی برسوں تک پوچھا جاتا رہے گا۔دوپہر تک اسرائیلی وزیر اعظم نے اعلان کر دیا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading