فلسطینی ذرائع نے "العربیہ/الحدث” کو بتایا ہے کہ حماس نے جنگ بندی کی تجویز پر اپنا حتمی جواب دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حماس نے غزہ معاہدے کی تجویز سے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے، اور اب فیصلہ اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ حماس کے جواب میں امداد کی تقسیم، فوجی انخلا اور جنگ بندی کی ضمانت سے متعلق کچھ تحفظات شامل ہیں۔
ادھر "العربیہ/الحدث” کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حماس کا جواب ثالثوں کو دے دیا گیا ہے، مگر یہ تا حال اسرائیل تک نہیں پہنچایا گیا۔ ثالثوں نے حماس سے کہا ہے کہ وہ اپنے جواب میں چند ترامیم کریں تاکہ اس کا تاثر مثبت ہو
اس سے قبل عبرانی اخبار "یدیعوت آحرونوت” نے انکشاف کیا تھا کہ قطر اور مصر کے ثالثوں کو، جو غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات میں شامل ہیں، حماس کا جواب موصول ہو چکا ہے، مگر یہ جواب اب تک ان کے لیے اطمینان بخش نہیں ہے۔
ایک با خبر ذریعے کے مطابق ثالثین حماس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے جواب میں "بعض بہتریاں” شامل کرے تاکہ مذاکرات جاری رکھے جا سکیں۔ اسی ذریعے نے مزید بتایا کہ بیت المقدس کے حکام نے حماس کے جواب کو مایوس کن قرار دیا ہے، تاہم اگر حماس کی جانب سے معقول بہتری کی گئی، تو مذاکراتی عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
معاہدہ آخری مراحل میں داخل
ایک اسرائیلی عہدے دار نے ویب سائٹ "واللا” کو بتایا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، غزہ معاہدے پر زیادہ تر اختلافات حل ہو چکے ہیں، اور حماس کا با ضابطہ جواب آج رات یا کل تک متوقع ہے۔
ایک اعلیٰ اسرائیلی اہل کار نے کہا کہ "تل ابیب کو حماس کے جواب کی توقع آج رات یا کل ہے”۔
اخبار "یدیعوت آحرونوت” کے مطابق دوحہ اور قاہرہ میں جاری مذاکرات میں شریک ثالثین کا خیال ہے کہ حماس اگلے 24 گھنٹوں کے اندر اپنا جواب دے گی۔ البتہ اب بھی ایک بنیادی اختلاف باقی ہے، جو ان علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق ہے جہاں وہ حالیہ کارروائیوں کے دوران دوبارہ قابض ہو چکی ہے۔
باوجود ان اختلافات کے اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک جو ابتدائی مفاہمتیں ہو چکی ہیں وہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اگر دونوں فریق تھوڑی سی لچک دکھائیں تو جلد معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔
تاہم، اب تک حماس کی جانب سے گزشتہ جمعرات کو پیش کی گئی ثالثوں کی تجویز پر کوئی با ضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، حالانکہ اس پر تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔