’جے شری رام‘ کے نام پر پھر ہوا ظلم، مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں 2-2 لوگوں کی پِٹائی

ملک میں مذہب کے نام پر تشدد جاری ہے۔ تازہ معاملہ مہاراشٹر اور اورنگ آباد کا ہے جہاں مسلم نوجوانوں سے مار پیٹ کی گئی اور انھیں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے مجبور کیا گیا۔ خبروں کے مطابق اورنگ آبادی کے آزاد چوک پر 4 نوجوانوں نے کام پر جا رہے دو مسلم نوجوانوں کو روک لیا اور ان سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ جب دونوں مسلمانوں نے اس سے انکار کیا تو مار پیٹ کی کوشش کی گئی۔

متاثرہ نوجوانوں کے مطابق وہ کام کے سلسلے میں جا رہے تھے تبھی کار پر سوار کچھ نوجوان پہنچے اور’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے مجبور کرنے لگے۔ ایک مسلم نوجوان کا کہنا ہے کہ ’’جب ہم نے ایسا کرنے سے منع کیا تو انھوں نے مار پیٹ کی کوشش کی اور دھمکی دے کر چلے گئے۔‘‘ یہ پورا واقعہ وہاں لگے سی سی ٹی وی کیمرہ میں قید ہو گیا ہے۔ علاقے میں نظامِ قانون کنٹرول میں کرنے کے لیے کثیر تعداد میں پولس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

پولس کمشنر چرنجیوی پرساد کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ’’میں لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ ہم نے ایک ایف آئی آر درج کر لی ہے اور ہم معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کریں گے۔‘‘


دوسری طرف رانچی میں ہفتہ کی شب لوگوں نے چوری کے شک میں دو نوجوانوں شیکھر رام اور بسنت رام کو پکڑ لیا اور ان کی پٹائی کر دی۔ خبروں کے مطابق دونوں نوجوانوں سے ’جے شری رام‘ سمیت کچھ دیگر مذہبی نعرے لگانے کو کہا گیا۔ جب پکڑے گئے نوجوانوں نے اس سے منع کیا تو دونوں کو چاقو مار دیاگیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جون 2019 میں 24 سالہ تبریز انصاری کو چوری کے الزام میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا تھا۔ اس کا قتل جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساواں ضلع کے گھاتکڈیہہ گاؤں میں ہوا تھا۔ تبریز انصاری کو پہلے بجلی کے پول سے باندھ کر پیٹا گیا تھا، پھر اس سے جے شری رام اور جے ہنومان کا نعرہ لگوایا گیا تھا۔ اسپتال میں علاج کے دوران تبریز انصاری کی موت واقع ہو گئی تھی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading