
لکھنو:(ایجنسیز)چندولی میں ایک نوجوان مشکوک حالت میں جل گیا۔ جلنے والا نوجوان کا تعلق ایک مخصوص (مسلم) طبقے سے ہے، لہٰذا پورے پولیس محکمے میں ہنگامہ مچ گیا۔ ابتدائی دور میں کہا گیا کہ کچھ لوگوں (یادوبرادری) نےمل کراس نوجوان کوجلا کرمارنے کی کوشش کی ہے۔ آناً فاناً میں کئی تھانوں کی فورس جائےحادثہ پربھیج دی گئی۔ پولیس کےاعلیٰ افسران بھی موقع پرپہنچےاورجانچ پڑتال کی جانچ پڑتال کےدوران یہ پایا گیا کہ متاثرہ نوجوان کئی طرح کا بیان دے رہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ پولیس نےجب پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی تومتاثرہ نوجوان کی کہانی غلط ثابت ہوئی۔دراصل چندولی ضلع کے سید راجا کا رہنے والا 16 سالہ خالد انصاری آج گھرسے باہرنکلا تھا۔ کچھ ہی دیربعد وہ جلی ہوئی حالت میں واپس گھرلوٹا۔ نوجوان کےذریعہ بتایا گیا کہ اسے کچھ لوگوں نےکیروسین تیل ڈال کرجلانے کی کوشش کی ہے۔ فوراً پولیس کواطلاع دی گئی۔ موقع پرپہنچی پولیس نےنوجوان کوضلع اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا۔ اس کے بعد نوجوان کووارانسی کےلئے ریفرکردیا گیا۔اہل خانہ کی مانیں توروزانہ کی طرح آج صبح قضائے حاجت کےلئے نوجوان خالد گیا تھا، لیکن نصف گھنٹےسےزیادہ وقت گزرنے کے بعد تک گھرنہیں پہنچا۔ تواہل خانہ اسے دیکھنے کے لئے نکلے۔ تبھی اچانک متاثرشخص خالد انصاری بھاگتے ہوئےگھرپہنچا، جس سے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ نے آناً فاناً میں پولیس کواطلاع دی۔(بہ شکریہ نیوزاردو 18)