حیدرآباد7جنوری(یواین آئی)جوائنٹ ایکشن کمیٹی ملین مارچ کے لیڈروں نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون،این پی آر اور این آر سی کے خلاف 4/جنوری کا تاریخ ساز حیدرآباد ملین مارچ سیاہ قانون کے خلاف تحریک کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ تحریک اُس وقت تک جاری رہے گی تاوقتیکہ مرکزی حکومت ان سیاہ قوانین سے دستبردار اختیار نہ کرلے۔
حیدرآباد کے میڈیا پلس آڈیٹوریم میں آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لیڈروں مشتاق ملک کنوینر، امجداللہ خان خالد، مولانا محمد نصیرالدین، محمد آصف عمری، علیم خان فلکی، عبدالستار مجاہد اور مسعود ایڈوکیٹ نے اعلان کیا کہ اب 25جنوری کو آندھرا میں بھی ملین مارچ کیا جائے گا اور اس کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان مرد و خواتین ریاست تلنگانہ میں گھر گھر این آر سی کے خلاف عوامی شعور بیدار کریں گے۔
مشتاق ملک نے ملین مارچ کو کامیاب بنانے پر عوام سے اظہار تشکر کیااور کہا کہ حیدرآباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام بلالحاظ مذہب و ملت اپنے ملک کے دستور اور سیکولر کردار کے تحفظ کے لئے اتنی تعداد میں سڑکوں میں نکلے ہیں۔ اس کا اس قدر زبردست مثبت اثر ہوا کہ ایس آر نگر میں جب بی جے پی ارکان سیاہ قوانین کی تائید میں گھر گھر مہم کے تحت پہنچے تو وہاں کے عوام بالخصوص خواتین نے بی جے پی واپس جاؤ کے نعرے لگائے۔ یہ ایک نئے انقلاب کی آمد آمد ہے۔ مشتاق ملک نے وزیراعلی تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راوسے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے سیاہ قوانین سے متعلق اپنے موقف کی ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ وضاحت کریں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان نے وزیراعلی سے ملاقات کے لئے وقت طلب کیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہیں مکتوب روانہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلی حالات کی نزاکت کے پیش نظر جے سی کے لیڈروں کو ملاقات کا وقت دیں گے اور اپنے موقف کی وضاحت کریں گے۔ اگر سیاہ قوانین کی وہ مخالفت نہیں کرتے ہیں تو الیکشن میں ٹی آر ایس کو اس کا نقصان ہوگا اور جے اے سی اس کے خلاف ذہن سازی کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک پُرامن مارچ کئے جانے پر حکومت اور پولیس کی جانب سے ستائش کی جانی چاہئے تھی مگر تقریباً 25مقدمات مختلف پولیس اسٹیشنس میں درج کئے گئے۔ مسٹر امجداللہ خالد نے ان مقدمات کی تفصیل سے واقف کروایا۔ انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ مختلف محلوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے خلاف حیدرآباد کے مختلف پولیس اسٹیشن میں مقدمہ میں درج کروایا گیا۔ پولیس نے ٹووہیلرس کے رجسٹریشن نمبر سے اس کے مالکین کے نام معلوم کرکے مقدمہ درج کئے ہیں‘ اس کا اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم ایک شخص کے خلاف بھی درج کیا گیا۔ جے سی لیڈروں نے کہا کہ یہ مارچ اور احتجاج ملک اور دستور کی حفاظت کے لئے ہے۔ پولیس کا رویہ تبدیل ہونا چاہئے۔ ورنہ یوپی اور دہلی کی پولیس جیسی بدنامی ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جے اے سی لیگل سیل ہر قسم کی قانونی امداد فراہم کرے گا۔ جے اے سی لیڈروں نے جے این یو پر اے بی وی پی اور آر ایس ایس کے نقاب پوش غنڈوں کے مسلح اور طلبہ پر قاتلانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال سنگین حد تک تباہ ہوگئی ہے۔ مولانا نصیرالدین نے بھی خطاب کیا۔ایک سوال کے جواب میں مشتاق ملک نے کہا کہ سیاہ قوانین کے خلاف جو بھی احتجاج ہورہا ہے‘ وہ اس کی تائید کرتے ہیں۔ یہ کام نظریاتی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہوکر کیا جاتا رہے گا۔