جنگلی مہا راج بم دھماکہ کیس :6؍ سال بعد ہونگے ملز مین پر الزا مات طے

ممبئی ۔26؍ اکتوبر ( پریس ریلیز ) اگست ۲۰۱۲ء کو پونہ میں ہوئے بم دھماکہ میں ما خوذ بے قصور مسلم نو جوانوں پر دائر مقدمہ گذشتہ ۶؍ سالوں سے التواء کا شکار رہا ہے اور اسکے ٹرائل کی تاریخ ٹال مٹول کا رویہ اپنایا جاتا رہا جس کی وجہ سے آج تک چارج فریم نہیں ہو سکا تھا لیکن اب آئندہ چند دنوں میں ان ملز مین پر الزا مات طے کئے جا نے کا امکان ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں عدالتوں میں ناجائز طریقے پر پھنسائے گئے بے گناہ نوجوانوں کے مقدمات میںمفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان بے قصور مسلم نو جوانوں پر تعزیرات ہند کی الگ الگ دفعات بلکہ یو اے پی اے کی سخت ترین قوانین کے ساتھ ساتھ مکوکا بھی لگا یا گیا تھا ، مکوکاایک ایسا کالا قانون ہے جسکے تحت محض زبر دستی اور شدید ٹارچر کی بنیاد پر حاصل کردہ اقبالیہ بیان سزاء دلانے کے لئے کافی ہے۔ سال ۲۰۱۴ء میںجمعیۃ علماء مہا راشٹر کی لیگل ٹیم نے مکوکا قانون ان ملز مین پر سے ہٹانے کا تاریخی کار نا مہ انجام دیا تھا۔ لیکن ممبئی ہائی کورٹ نے اسے پھر سے نا فذ کرنے کا حکم دے دیا ہے ،اس طرح کی اور کئی وجو ہات کی بناء پر جن میں نمایاں طور پر ان میں سے ۴؍ ملز مین دہلی کے تہاڑ جیل میں قید و بند اور وہاں کے ٹرائل میں مصروفیت کی بنیاد پر یہ مقدمہ التواء کا شکار ہوا تھا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان میں سے ۲؍ ملز مین اسد خان اور عمران خان کی درخواست ضمانت ۲۰۱۳ء سے ممبئی ہائی کورٹ میں زیر بحث رہی ہے لیکن ابھی تک ممبئی ہائی کورٹ نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے ،بہر حال اب اس مقدمہ کے ملز مین پر فرد جرم عائد ہو نے کے امکا نات ہیں جس سے سماعت کا راستہ کھلے گا ۔ مولانا محمد ندیم صدیقی نے مزیدکہا کہ پونہ کے جنگلی مہارا ج روڈ بم دھماکہ کیس میں ما خو ذ بے قصور گرفتا ر نو جو انو ں کو مہاراشٹر پو لس اور اے ٹی ایس اپنی غلطی اور غیر قانو نی حرکتو ں کو چھپا نے کے لئے زبر دستی پھنسانا چاہتی ہے جمعیۃ علماء مہا راشٹرایسے بے گناہوں کوانصاف دلانے کئے لئے گذشتہ کئی سالوں سے جد و جہد کر رہی ہے جس میں خاطر خواہ کا میا بی بھی مل رہی ہے ہمیں امید اس مقدمہ میں بھی کامیابی ملے گی ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading