ہجومی تشدد کے ذریعہ مدرسہ کے 8 سالہ معصوم طالب علم محمد عظیم کا قتل

دہلی۔٢٦۔اکتوبر۔دارالحکومت دہلی میں ہجومی تشدد کے ذریعہ مدرسہ کے 8 سالہ معصوم طالب علم محمد عظیم کے قتل کے بعد ایک بارپھرموب لنچنگ پرسوال اٹھنے لگے ہیں۔ مقتول کے اہل خانہ کا واضح طور پرکہنا ہے کہ ہمیں انصاف چاہئے۔ دوسری طرف کچھ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے۔ اس واقعہ سے لوگوں میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔ وہیں دوسری طرف علاقہ میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق متوفی طالب علم کی نماز جنازہ آج مالویہ نگرکے بیگم پور گاوں واقع جامعہ مسجد سرائے شاہ جی میں آج نمازجمعہ کے بعد ادا کئے جانے کا منصوبہ ہے، لیکن 12 بجے تک لاش نہیں مل سکی ہے، جس کے بعد ایسا ہونا ممکن نظرنہیں آرہا ہے۔ دوسری طرف بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچنے ہوئے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ پوری دہلی سے بڑی تعداد میں لوگ نمازجنازہ میں شریک ہوسکتے ہیں.اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہرچھوٹی بڑی بات پر بی جے پی کوگھیرنے اوروزیراعظم نریندرمودی پرسوال اٹھانے والے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اس معاملے پر بالکل خاموش ہیں۔ نہ تو انہوں نے کوئی ٹوئٹ کیا ہے اورنہ ہی ان کا کوئی نمائندہ مدرسے تک پہنچا ہے اورنہ اہل خانہ سے ملاقات کرنے کی ہمت ہوئی۔ جبکہ یہی اروند کیجریوال ہیں جنہوں نے لکھنو کے وویک تیواری قتل معاملے پرایک سخت ٹوئٹ کرتے ہوئے بی جے پی سے سوال پوچھا تھا "وویک تیواری توہندو تھا، پھراسے کیوں مارا گیا؟ بی جے پی لیڈر پورے ملک میں ہندو لڑکیوں کی آبروریزی کرتے ہوئے گھومتے ہیں”۔ تاہم جب کیجریوال کی ریاست میں یہ حادثہ رونما ہوا، تو وہ اس پر خاموش ہیں۔اس سے قبل پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آردرج کرلیا ہے اورچارملزمین کوحراست میں لے لیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظارہے، اس کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ پولیس آگے کیا کارروائی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے جن بچوں کو گرفتارکیا ہے، وہ نابالغ بتائے جارہے ہیں۔ اس لئے انہیں چائلڈ ہوم بھیج دیا گیا ہے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading