نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کی پوری دنیا میں عزت ہے لیکن اسے ماپنے کے پیمانے پر ہندوستان کمزورثابت ہوا ہےجس کی وجہ سے تازہ فہرست میں ہماری جمہوریت پہلی مرتبہ دس پوائنٹ کی کمی آئی ہے اور یہ تشویشناک صورت حال ہے۔
کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں کی کانفرنس میں کہا ہے کہ جب جمہوریت انڈیکس میں ہندوستان کی سطح گرتی ہے تو ہمارے عظیم جمہوری ملک کے لوگوں کے لئے یہ یقینا تشویش کا موضوع بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سروے میں ہندوستانی جمہوریت کا انڈیکس گرا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ جب ہندوستان اس فہرست میں دس مقام نیچے ہوا ہے۔
Their 'achhe din' meant gradual erosion of democracy in India@TheEIU democracy index ranks India at 51, which is ten places down from 2018's rank.
India drops ten places in democracy index falling from 7.23 in 2018 to 6.90 in 2019 because of 'erosion of civil liberties'. pic.twitter.com/a1THpnfEkW
— All India Mahila Congress (@MahilaCongress) January 22, 2020
سنگھوی نے کہا کہ جمہوریت انڈیکس میں ہندوستان اس مرتبہ 41 پوائنٹ سے گھٹ کر 51 پر آ گیا ہے۔ جمہوریت کو ماپنے والا یہ انڈیکس 2006 میں شروع ہوا تھا لیکن ہندوستان پہلی مرتبہ اتنے زیادہ پوائنٹ کے ساتھ اتنی نچلی سطح پر گرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انڈیکس بھلے ہی جمہوریت کے کچھ ہی ماپوں کی بنیاد پر تیار کیاگیا ہے لیکن یہ غوروفکر کا مقام ہے کہ ہندوستان جیسی جمہوری ملک میں یہ گراوٹ کیسے آئی۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو کم کرنے والے چاروں ماپوں پر بھی اگر غورکریں توہندوستان کی سطح حقیقتا گرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں پہلا پیمانہ خوف کو لیا جاسکتاہے اور شاید اس پیمانے پر ملک کے زیادہ تر لوگوں کا جواب ہاں ہی ہوگا۔ ملک میں سچ میں خوف کا ماحول میں اضافہ ہوا ہے جو جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ دوسری وجہ عدم برداشت ہے اور اس پیمانے پر بھی جتنی مثالیں دیکھنے کو مل رہی ہیں اور ان پر بھی ہم خود کو کمزور پاتے ہیں۔
ترجمان نے اس سلسلے میں تیسرے پیمانے کے طور پر بغض اور انتقام کو مثال کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ بغض اور انتقام کا جو ماحول موجودہ حالت میں ہرجگہ دیکھنے کو مل رہے ہیں ملک میں یہ ثقافت پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ چوتھے پیمانے کے طور پر سماجی اور مذہبی یکجہتی کو لیا جاسکتاہے اور اس پر ہماری جمہوریت کمزور ہی محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نےکہا کہ برطانیہ اور دیگر کچھ ممالک کی سامراج وادی سے تقریباچھ ساتھ عشرہ پہلے جو 40۔30 ممالک آزاد ہوئے ہیں۔ ان سب میں ہندوستانی جمہوریت انوکھا اور ممتاز ہے۔ ہماری جمہوریت دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہے اور ہندوستان جیسی جمہوریت اردگرد کے ممالک میں کہیں بھی نہیں ہے۔ جمہوریت کے پیمانے پر ہندوستان کی رینکنگ کم ہونا ملک کے سبھی لوگوں کو قدرتی طور سے پریشان کرنے والی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو